واشنگٹن/تل ابیب : مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے آغاز اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے پیچھے چھپے حقائق نے دنیا کو ششدر کر دیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ اس پورے آپریشن کی بنیاد 23 فروری کو ہونے والی ایک خفیہ فون کال تھی، جس نے تہران کے مقدر کا فیصلہ کر دیا تھا۔
وہ ‘گولڈن چانس’ جو ضائع نہیں کیا جا سکتا تھا
23 فروری کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک انتہائی حساس انٹیلیجنس بریفنگ دی۔ نیتن یاہو نے انکشاف کیا کہ 28 فروری کی صبح علی خامنہ ای اور ان کے تمام اعلیٰ مشیر تہران میں ایک ہی مقام پر جمع ہوں گے۔ نیتن یاہو کا اصرار تھا کہ: "یہ وہ واحد موقع ہے جب ہم ایک ہی وار میں پوری قیادت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔”
سی آئی اے کی تصدیق اور ٹرمپ کی خاموشی
axios کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے فوری طور پر سی آئی اے (CIA) کو اس معلومات کی تصدیق کا حکم دیا۔ 25 فروری کو جب ٹرمپ ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کے لیے اسٹیج پر آئے، تو انہوں نے جان بوجھ کر ایران پر بات کرنے سے گریز کیا تاکہ تہران کو کسی قسم کا شک نہ ہو اور وہ اپنی نقل و حرکت تبدیل نہ کریں۔ 26 فروری تک سی آئی اے نے مہرِ تصدیق ثبت کر دی: "ہدف وہیں موجود ہوگا۔”
سفارت کاری کا خاتمہ اور موت کا پروانہ
ایک طرف جنیوا میں ٹرمپ کے نمائندے جارڈ کوشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے مذاکرات کا ڈرامہ کر رہے تھے، تو دوسری طرف 27 فروری کو انہوں نے رپورٹ دی کہ "سفارت کاری کا وقت ختم ہو چکا ہے”۔
27 فروری، شام 3 بج کر 38 منٹ (امریکی وقت): ٹرمپ نے وہ تاریخی فیصلہ صادر کیا جس کا انتظار پینٹاگون کر رہا تھا۔ ٹھیک 11 گھنٹے بعد، جب تہران کی فضاؤں میں امریکی بمبار طیارے نمودار ہوئے، تو دنیا نے دیکھا کہ وہ خفیہ کال ایک خونی حقیقت میں بدل چکی ہے۔ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا جس کی واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
آپریشن کی اہم ٹائم لائن:
23 فروری: نیتن یاہو اور ٹرمپ کی وہ خفیہ کال جس نے ہدف طے کیا۔
25 فروری: اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ کی پراسرار خاموشی۔
26 فروری: سی آئی اے کی حتمی تصدیق۔
27 فروری (3:38 PM): ٹرمپ کا حتمی حکم۔
28 فروری کی صبح: تہران پر بمباری اور خامنہ ای کی ہلاکت
خامنہ ای کی شہادت اور تہران پر بمباری کے 11 گھنٹوں کی سنسنی خیز اندرونی کہانی سامنے آگئی

