تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
عالمی سیاست ایک آرائی نے خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن انتظامیہ ایک وسیع تر اسٹریٹیجک پیکج پر غور کر رہی ہے جس میں ترکی کو بھی شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں خلیجی خطے میں عسکری نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے اپنی افواج اور اتحادی نیٹ ورک کو متحرک کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کشیدگی کے اثرات پاکستان تک بھی پھیل سکتے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب روس اور چین نے ایران کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کو جدید میزائل سسٹمز، لڑاکا طیارے اور جدید ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں، جسے بعض ماہرین عالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کے توازن کو بدلنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور چین کی پالیسی میں ایک حد تک ماضی کے تنازعات جیسے یوکرائن کی جنگ اور ویتنام میں امریکی کردار کے اثرات بھی شامل ہو سکتے ہیں، جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان بالواسطہ مقابلہ دیکھا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سی آئی اے نے اپنی حالیہ رپورٹس میں یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روس اور چین ایران کو ایک اسٹریٹیجک مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے امریکا کو ایک بڑے جغرافیائی اور عسکری جال میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد امریکا کو بیک وقت مختلف محاذوں پر مصروف رکھنا. یہی وجہ ہے کہ امریکی عہدیدار ایران سے بیک ڈور ڈپلومیسی کے خواہ ہیں


