اسلام آباد :وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں دھماکے کے افغان ماسٹر مائنڈ کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے ہے جسے حراست میں لیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن کے بعد ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران ایک پولیس اے ایس آئی ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ اس سارے واقعے کی منصوبہ بندی اور حملہ آور کی تربیت افغانستان میں ہوئی۔ دو افراد نے ریکی کی اور حملہ آور کو افغانستان سے یہاں لایا گیا۔
وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اتنی اُمید نہیں تھی کہ ہم اتنی جلدی اس حملے کے سہولت کاروں تک پہنچ جائیں گے۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور داعش سمیت 21 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، پاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کے تانے بانے افغانستان سے ہی ملتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں، بلوچستان، خیبرپختونخوا یا کسی اور جگہ ہمیں کمیونٹی انٹیلی جنس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اگر شہری بھی ہماری مدد کریں تو ہمیں اس کا فائدہ ہو گا۔‘
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک دھماکہ ہو رہا ہے تو ہم 99 روک بھی رہے ہیں، لیکن اس کی تفصیلات ہم سامنے نہیں لا سکتے۔
نیوز کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل میں کمی کا بھی شکوہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جدید امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ ہمیں اُن سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کرنا ہو گی۔
وفاقی وزیرمحسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی فنڈنگ اور منصوبہ بندی انڈیا سے ہو رہی ہے۔ انڈیا سے ان دہشت گردوں کو اہداف دیے جاتے ہیں اور پہلے جہاں 500 ڈالرز دیے جاتے تھے، اب بڑھا کر 1500 ڈالرز کر دیے گئے ہیں
اسلام آباد خودکش دھماکے کا افغان ماسٹر مائنڈ پکڑ لیا،منصوبہ بندی تربیت افغانستان میں داعش نے کی ،محسن نقوی وفاقی وزیر داخلہ

