اسلام آباد :راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا علاج ان کے ذاتی معالج سے کروانے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
عمران خان کی لیگل ٹیم نے سابق وزیرِ اعظم کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں سے کروانے سے متعلق درخوست دائر کر رکھی تھی۔
عمران خان کے وکیل فیصل ملک نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہر قیدی کا حق ہے کہ اسے علاج معالجے کے لیے تمام ممکنہ سہولیات ملنی چاہییں۔
فیصل ملک کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف جب قید میں تھے تو ان کے ذاتی معالج سے ان کا علاج کروایا گیا تھا۔ اُن کے بقول عمران خان خود بھی اپنے ذاتی معالج سے علاج کروانا چاہتے ہیں۔
فیصل ملک کا کہنا تھا کہ اگر ان کے موکل کو نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر ہوگی۔
اس مقدمے کے پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان ضمانت پر ہیں اور ایک ضمانت دیے جانے والے شخص کو عدالت جیل کے اندر بیٹھے شخص کو علاج کروانے کا کیسے لیگل کور دے سکتی ہے؟
اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کو اس مقدمے میں فروری 2024 میں ضمانت مل چکی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ان کے ذاتی معالج سے علاج کروانے کی اجازت لاہور ہائی کورٹ نے دی تھی جو کہ ایک آئینی عدالت ہے جبکہ ٹرایل کورٹ قانون سے باہر نہیں ج اسکتی۔
اُنھوں نے کہا کہ جیلوں میں طبی عملہ صوبے کی بنیادی ہیلتھ کیئر کی جانب سے تعینات کیا جاتا ہے اور اگر علاج کے دوران کسی قیدی کو کچھ ہو جائے تو وہ طبی عملہ جواب دہ ہوتا ہے جبکہ پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کے دوران اگر قیدی کو کچھ ہو جائے تو اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کا ان کے ذاتی معالج سے علاج کروانے کی درخواست مسترد کر دی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے ذاتی معالج سے علاج کرانے کی عمران خان کی درخواست مسترد کر دی

