اسلام آباد :وزیر داخلہ برائے مملکت طلال چوہدری نے ترلائی میں امام بارگاہ و جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ انتظامیہ کے علم میں ایک بج کر 42 منٹ پر آیا۔ اس واقعے میں 31 افراد کو موت ہوئی جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔ حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا لیکن اس کا افغانستان کتنی مرتبہ جانا ہوا، وہ تفصیلات آ چکی ہیں۔
طلال چوہدری نے آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’اس حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھائی بھی شہید ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں۔ اسلام، لسانیت کا نام لے کر مسلمانوں کو مارا نہیں جاتا۔ ہم نے دیگر ممالک کو ثبوت دیا ہے کہ یہ انڈیا سپانسرڈ ہے۔ بی ایل اے کا ہو یا ٹی ٹی پی کا، انہیں ڈالرز میں پیسے دیے جاتے ہیں۔اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ 72 گھنٹے میں دی جائے گی۔ کچھ متعلقہ افراد بھی پکڑے گئے ہیں۔

