پشاور:خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار سے ہونے والی ایک بڑی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔
کارروائی کے دوران 14 خوارجی دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جو پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فتنہ الخوارج نے افغانستان کو اپنی بنیادی آپریشنل پناہ گاہ بنا رکھا ہے، جہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، بھرتی، رابطہ کاری اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کو درپیش خطرہ اب محض بکھرے ہوئے عناصر تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک منظم سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج کو افرادی قوت، لاجسٹک سپورٹ اور محفوظ نقل وحرکت کے لیے افغان سرزمین پر انحصار حاصل ہے، جسے وہاں موجود سازگار ماحول مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
افغان عبوری انتظامیہ کی جانب سے ان نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا دہشتگرد عناصر کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہا ہے۔
اقوام متحدہ بھی اس امر کی تصدیق کر چکی ہے کہ افغانستان میں ایک درجن سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، جو اسے علاقائی دہشت گردی کا مرکز ثابت کرتی ہیں۔
ان تنظیموں کی موجودگی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق خوارج دہشت گرد افغانستان میں اپنے خاندانوں کے ساتھ کھلے عام مقیم ہیں، کمزور نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے تشدد کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی فوجی اسلحہ اور جدید جنگی سازوسامان بھی دہشت گرد عناصر کے ہاتھ لگ رہا ہے، جو پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
اس اسلحے کی دستیابی نے خطرات کی شدت اور دائرہ کار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
باجوڑ میں 14 دہشتگردوں کی ہلاکت زیرو ٹالرنس پالیسی کا واضح پیغام ہے، ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں تاکہ دہشتگردی کے لیے کسی قسم کی جگہ باقی نہ رہنے دی جائے۔
پاکستان اپنی سرحدوں، عوام اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے خوارج کے ناسور کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے۔

