اسلام آباد : انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کے کیس میں ایک نیا اور حیران کن قانونی موڑ سامنے آیا ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق، متعلقہ جج نے جاری کردہ تحریری فیصلے میں ایک اہم ترمیم کرتے ہوئے ایران سے متعلق پورا پیراگراف نکال دیا ہے۔
سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت سے سامنے والے آرڈر کے مطابق پراسیکوشن نے درخواست دی جس کو 27 جنوری جج مجوکہ نے منظور کرکے کہا ایران اور دوسرے ممالک کو دہشت گرد قرار دینے والی ابزروشن اسٹینوگرافر کی غلطی سے شامل ہو گئی تھی اس لئے یہ ابزروشن نکال دی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جج افضل مجوکہ نے اپنے تحریری فیصلے میں اس تبدیلی کے لیے مجموعہ ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 369 کا سہارا لیا ہے۔
دفعہ 369 کیا ہے؟ اس دفعہ کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ فیصلے پر دستخط کرنے سے قبل یا بعض مخصوص حالات میں اس میں موجود کلرک کی غلطی (Clerical Error) یا ریاضی کی چوک کو درست کر سکے۔
جج صاحب نے وضاحت دی ہے کہ ایران سے متعلق پیراگراف کا شامل ہونا دراصل اسٹینو گرافر کی ٹائپنگ کی غلطی تھی، جسے اب ریکارڈ سے حذف کر کے درست کر دیا گیا ہے۔
ایران کا تذکرہ اور عدالتی وضاحت
اس سے قبل فیصلے میں ایران سے متعلق پیراگراف کی موجودگی نے قانونی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے، کیونکہ کیس کا بنیادی ڈھانچہ ٹویٹس اور ریاستی اداروں کے گرد گھوم رہا تھا۔ اب عدالت کی جانب سے اسے "ٹائپنگ ایرر” قرار دے کر نکالے جانے کو ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔
کیس کا پس منظر
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ کیس سوشل میڈیا پر کی جانے والی ان ٹویٹس کی بنیاد پر بنایا گیا تھا جنہیں ریاست مخالف یا اشتعال انگیز قرار دیا گیا تھا۔ اس کیس میں ضمانت اور دیگر قانونی مراحل کے دوران جج افضل مجوکہ کا یہ حالیہ فیصلہ اب قانونی بحث کا نیا موضوع بن گیا ہے۔


