Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گیمرز کے لیے بڑی خوشخبری: ’جی ٹی اے 6‘ کی نئی اور طویل جھلک کب اور کہاں جاری ہوگی؟ پتہ چل گیا

      دنیا کا پہلا ’روبوٹ اسکول‘ کھل گیا: 30 ہیومینائڈ روبوٹس کی پہلی کلاس، سلیبس کیا اور امتحان کیسے ہوگا؟

      آرٹیفیشل انٹیلی جنس عالمی خطرہ: میٹا کے اے آئی ماڈل نے دوسری کمپنی کو ہیک کر لیا!

      اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بڑی تبدیلی: ”گوگل اسٹنٹ کے 10 سالہ دور کا خاتمہ “ متبادل متعارف کرا دیا گیا!

      اسپورٹس کا مستقبل بھی بدل گیا، روبوٹس کا سنسنی خیز مارشل آرٹس مقابلہ: شکست کے بعد مشین کاجشن، ویڈیو وائرل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    تعلیمی اداروں میں پنپتا ہوا مافیا اور اقربا پروری؛ یونیورسٹی آف ایجوکیشن ڈکیتی ایک لمحہ فکریہ،کمپیوٹرز تو مل گئے، مگر علم گاہوں کا لٹا ہوا اعتماد کیسے بحال ہوگا؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    لاہور کے تعلیمی ادارے، جو علم، تحقیق اور کردار سازی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اب سوالیہ نشان بنتے جا رہے ہیں یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں ہونے والی حالیہ بڑی ڈکیتی نے نہ صرف سیکیورٹی نظام کی قلعی کھول دی بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ اصل مسئلہ ڈاکو نہیں، بلکہ وہ ہاتھ ہیں جو پردے کے پیچھے رہ کر سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں۔
    یہ امر چونکا دینے والا ہے کہ سی سی ڈی (Crime Control Department) کے خوف سے بڑے بڑے کریمنلز وارداتیں چھوڑ گئے، مگر یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں سات مسلح افراد بلاخوف و خطر گارڈز کو یرغمال بنا کر دروازے کھلوانے میں کامیاب ہو گئے، لیب اور اسٹورز لوٹے گئے اور قیمتی 70 کمپیوٹرز دو رکشوں پر لوڈ کر کے فرار ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ جرات کہاں سے آئی؟ اور واردات کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے؟ ذرائع کے مطابق اس ڈکیتی کے تانے بانے کیا یونیورسٹی کے اندرونی انتظامی جھگڑوں سے جا ملتے ہیں ؟ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی میں سرگرم ایک منظم مافیا ایک پروفیسر کو عہدے سے ہٹانے کا خواہشمند ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں چند ماہ قبل، ملزم عثمان کی ڈیوٹی کے دوران اسٹور سے دو درجن سے زائد کمپیوٹر سسٹم چوری ہو گئے تھے۔ جب معاملہ سامنے آیا تو ایک پروفیسر کو اشارہ دیا گیا مگر ان کا واضح مؤقف تھا وہ چوکیدار نہیں، ذمہ داری سیکیورٹی کی ہے۔ اس کے بعد بننے والی انکوائری کمیٹی نے حیران کن طور پر چوری کو دبایا اور گارڈ عثمان کا تبادلہ کر دیا۔ مزید انکشاف یہ ہے کہ گارڈ عثمان کی 2 قریبی رشتے دار بھی اسی یونیورسٹی میں ملازم ہیں، اور اسی تعلق داری نے معاملے کو فائلوں میں دفن کر دیا، حالانکہ پولیس اس وقت بھی ملزمان کو گرفتار کر سکتی تھی۔ اب دوسری بار منصوبہ زیادہ بڑا تھا۔ سات مسلح افراد، مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ، گارڈز کو یرغمال بنا کر اندر داخل ہوئے۔ انہیں علم تھا کہ یونیورسٹی گیٹ پر سیف سٹی کیمرے نصب ہیں، مگر وہ بے فکر تھے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ پہلے کی طرح اس بار بھی ایک انکوائری ہو گی، کسی افسر یا پروفیسر کو نشانہ بنایا جائے گا اور اصل کردار محفوظ رہیں گے۔ مگر اس بار کھیل بگڑ گیا۔ واردات کے فوراً بعد ایک سیکیورٹی گارڈ نے ہمت کر کے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کر دی۔ یونیورسٹی انتظامیہ سے پہلے پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

    مشکوک رویے پر سیکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا گیا جہاں ان سے روایتی تفتیش کی گئی، جبکہ دوسری جانب پولیس کی خصوصی ٹیموں نے فنگر پرنٹس اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانا شروع کر دیا۔ سیف سٹی کیمروں میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ ملزمان رکشوں پر مال لے کر فرار ہو رہے ہیں۔ پولیس نے تعاقب کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا اور تمام 70 کمپیوٹرز برآمد کر لیے۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے مزید تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ شفیق آباد پولیس نے جب انہیں روکا تو رشوت دے کر جان چھڑائی گئی اور وہ اپنے طے شدہ ٹھکانے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
    اب جبکہ ڈکیتی کے ملزمان پکڑے جا چکے ہیں، اصل سوال بدستور کھڑا ہے
    یونیورسٹی کے اندر موجود سہولت کار کون ہیں؟
    کون بار بار چوریوں کو دبا رہا ہے؟ اور کن چہروں کو بچانے کے لیے انکوائریوں کو ہتھیار بنایا جاتا رہا؟
    یہ واقعہ صرف ایک ڈکیتی نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں میں پنپتے ہوئے مافیا، اقربا پروری اور مجرمانہ خاموشی کا پردہ چاک کرنے والا ثبوت ہے۔
    اگر اب بھی اصل کرداروں کو بے نقاب نہ کیا گیا تو سوال صرف کمپیوٹرز کا نہیں رہے گا، بلکہ علم گاہوں کے اندر دفن ہوتے اعتماد کا ہوگا۔

    Related Posts

    مسافر خانہ سمیت مختلف مقامات پر گندگی، مریض اور تیماردار پریشان

    تھائی لینڈ: اسکول میں فائرنگ سے 8 لوگوں کی موت، 15 افراد زخمی

    جرنلسٹ پریس کلب میاں چنوں کا ماہانہ اجلاس

    مقبول خبریں

    گیمرز کے لیے بڑی خوشخبری: ’جی ٹی اے 6‘ کی نئی اور طویل جھلک کب اور کہاں جاری ہوگی؟ پتہ چل گیا

    سونے کی قیمت میں تیسرے روزبھی اضافہ

    گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد سے مذاکرات ناکام، کل سے ملک بھر میں پہیہ جام

    عوام پر نیپرا نے بجلی گرادی، کتنی مہنگی ہوئی ؟

    وزیر اعلی پنجاب کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدے کا پرجوش خیر مقدم،

    بلاگ

    اور:- یہ نمبروں کی دوڑ ، کہیں تعلیم کا زوال تو نہیں

    بیٹی کی ہاتھ میں قرآن اٹھاکرتحفظ کی فریاد،قانون حرکت میں نہ آیا،باپ قتل

    ”اعلیٰ افسران سے کانسٹیبل تک ڈرگ ٹیسٹ کا مطالبہ“

    ”غازی آباد سے اٹھی چنگاری، کیا پنجاب پولیس میں احتساب کا طوفان آئے گا ؟“

    گاذر قبیلے کا فخر حافظ محمد رفیق گاذر شہید وطن پر قربان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.