Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      راس لفان بحران:”جنگ ختم ہو بھی گئی تو گیس نہیں ملے گی”: توانائی کے ماہرین کے ہوش رُبا انکشافات

      پنجاب میں پہلا سکل سٹی پراجیکٹ قائم کرنے کا فیصلہ

      "جنگ کا جواز ہی جھوٹ نکلا”:جوئے کینٹ کا استعفیٰ اور تلسی گبارڈ کی گواہی: کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو مواخذے (Impeachment) کا سامنا کرنا پڑے گا؟

      "ٹرمپ کا وار الٹا پڑ گیا”: وائس آف امریکا میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں غیر قانونی قرار، 1000 ملازمین کی واپسی!

      "ہیلو مسٹر پریزیڈنٹ!”صحافیوں اور کرپٹو ٹائیکونز کے پاس ٹرمپ کا براہِ راست نمبر پہنچ گیا، ہر 12 منٹ بعد ایک کال!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      ایران کے سابق صدر احمدی نژاد منظر عام پر آگئے

      دبئی ائیرپورٹ پر میزائل حملہ ، 4 زخمی

      مناما،امریکی پانچواں فلیٹ سروس سینٹر کا تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد مکمل صفایا

      ابوظہبی ، ایرانی میزائل حملے کے بعد خوف وہراس،ایک ہلاک، شہری پناہ لینے پر مجبور

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    تعلیمی اداروں میں پنپتا ہوا مافیا اور اقربا پروری؛ یونیورسٹی آف ایجوکیشن ڈکیتی ایک لمحہ فکریہ،کمپیوٹرز تو مل گئے، مگر علم گاہوں کا لٹا ہوا اعتماد کیسے بحال ہوگا؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    لاہور کے تعلیمی ادارے، جو علم، تحقیق اور کردار سازی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اب سوالیہ نشان بنتے جا رہے ہیں یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں ہونے والی حالیہ بڑی ڈکیتی نے نہ صرف سیکیورٹی نظام کی قلعی کھول دی بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ اصل مسئلہ ڈاکو نہیں، بلکہ وہ ہاتھ ہیں جو پردے کے پیچھے رہ کر سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں۔
    یہ امر چونکا دینے والا ہے کہ سی سی ڈی (Crime Control Department) کے خوف سے بڑے بڑے کریمنلز وارداتیں چھوڑ گئے، مگر یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں سات مسلح افراد بلاخوف و خطر گارڈز کو یرغمال بنا کر دروازے کھلوانے میں کامیاب ہو گئے، لیب اور اسٹورز لوٹے گئے اور قیمتی 70 کمپیوٹرز دو رکشوں پر لوڈ کر کے فرار ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ جرات کہاں سے آئی؟ اور واردات کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے؟ ذرائع کے مطابق اس ڈکیتی کے تانے بانے کیا یونیورسٹی کے اندرونی انتظامی جھگڑوں سے جا ملتے ہیں ؟ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی میں سرگرم ایک منظم مافیا ایک پروفیسر کو عہدے سے ہٹانے کا خواہشمند ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں چند ماہ قبل، ملزم عثمان کی ڈیوٹی کے دوران اسٹور سے دو درجن سے زائد کمپیوٹر سسٹم چوری ہو گئے تھے۔ جب معاملہ سامنے آیا تو ایک پروفیسر کو اشارہ دیا گیا مگر ان کا واضح مؤقف تھا وہ چوکیدار نہیں، ذمہ داری سیکیورٹی کی ہے۔ اس کے بعد بننے والی انکوائری کمیٹی نے حیران کن طور پر چوری کو دبایا اور گارڈ عثمان کا تبادلہ کر دیا۔ مزید انکشاف یہ ہے کہ گارڈ عثمان کی 2 قریبی رشتے دار بھی اسی یونیورسٹی میں ملازم ہیں، اور اسی تعلق داری نے معاملے کو فائلوں میں دفن کر دیا، حالانکہ پولیس اس وقت بھی ملزمان کو گرفتار کر سکتی تھی۔ اب دوسری بار منصوبہ زیادہ بڑا تھا۔ سات مسلح افراد، مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ، گارڈز کو یرغمال بنا کر اندر داخل ہوئے۔ انہیں علم تھا کہ یونیورسٹی گیٹ پر سیف سٹی کیمرے نصب ہیں، مگر وہ بے فکر تھے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ پہلے کی طرح اس بار بھی ایک انکوائری ہو گی، کسی افسر یا پروفیسر کو نشانہ بنایا جائے گا اور اصل کردار محفوظ رہیں گے۔ مگر اس بار کھیل بگڑ گیا۔ واردات کے فوراً بعد ایک سیکیورٹی گارڈ نے ہمت کر کے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کر دی۔ یونیورسٹی انتظامیہ سے پہلے پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

    مشکوک رویے پر سیکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا گیا جہاں ان سے روایتی تفتیش کی گئی، جبکہ دوسری جانب پولیس کی خصوصی ٹیموں نے فنگر پرنٹس اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانا شروع کر دیا۔ سیف سٹی کیمروں میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ ملزمان رکشوں پر مال لے کر فرار ہو رہے ہیں۔ پولیس نے تعاقب کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا اور تمام 70 کمپیوٹرز برآمد کر لیے۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے مزید تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ شفیق آباد پولیس نے جب انہیں روکا تو رشوت دے کر جان چھڑائی گئی اور وہ اپنے طے شدہ ٹھکانے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
    اب جبکہ ڈکیتی کے ملزمان پکڑے جا چکے ہیں، اصل سوال بدستور کھڑا ہے
    یونیورسٹی کے اندر موجود سہولت کار کون ہیں؟
    کون بار بار چوریوں کو دبا رہا ہے؟ اور کن چہروں کو بچانے کے لیے انکوائریوں کو ہتھیار بنایا جاتا رہا؟
    یہ واقعہ صرف ایک ڈکیتی نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں میں پنپتے ہوئے مافیا، اقربا پروری اور مجرمانہ خاموشی کا پردہ چاک کرنے والا ثبوت ہے۔
    اگر اب بھی اصل کرداروں کو بے نقاب نہ کیا گیا تو سوال صرف کمپیوٹرز کا نہیں رہے گا، بلکہ علم گاہوں کے اندر دفن ہوتے اعتماد کا ہوگا۔

    Related Posts

    پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی اسرائیل حملے میں شہید،سری لنکا کا امریکا کورسائی دینے سے انکار

    ون ویلنگ اور ہوائی فائرنگ کرنے والے جیل جائیں گے،عید اور یومِ پاکستان کے لیے گرینڈ سکیورٹی پلان کی منظوری

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عید پر اہلخانہ سے ملاقات کروائی جائے، سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو خط

    مقبول خبریں

    مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے: ایکشن ہیرو اور انٹرنیٹ لیجنڈ چِک نورس 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    راس لفان بحران:”جنگ ختم ہو بھی گئی تو گیس نہیں ملے گی”: توانائی کے ماہرین کے ہوش رُبا انکشافات

    “امریکا کا فخر“ ایران کا جدید ترین امریکی جنگی طیارے ایف 35 سٹیلتھ II کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عید پر اہلخانہ سے ملاقات کروائی جائے، سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو خط

    ایران جنگ کا اثر، یورپ میں گیس کی قیمتیں دگنی، تیل کی 119 ڈالر فی بیرل سے واپسی

    بلاگ

    سرحدوں سے آگے جنگ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر

    ”جنگ گلے پڑ گئی“ میاں حبیب کا کالم

    Lady Behind the Transformation of Public Health Practice

    ڈاکٹر یا ڈاکو: کمیشن کے الزام، مہنگے ٹیسٹ اور سرکاری اسپتال سے نجی کلینک تک کا راستہ

    ڈینگی موت کا کھیل شروع ؟ انتظامی مجرمانہ غفلت،، کون سے انتظامی افسران تبدیل ہو ں گے ؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.