لاہور : اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اسمبلی احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حالیہ افسوسناک واقعے، احتجاجی سیاست، بیوروکریسی کی ذمہ داریوں اور شہر کے ٹریفک مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
حالیہ دردناک واقعے (ماں اور بچی کا واقعہ) پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے دو طرح کی باتیں سنی ہیں اور اس سلسلے میں ڈی آئی جی سے بھی رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتےواقعے کی جامع تحقیقات ہونی چاہئیں اور جن کی بھی کوتاہی ثابت ہوئی، ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا.
وزیراعلیٰ پنجاب پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ ایسے معاملات میں کسی کو کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی.
اسپیکر نے سرکاری افسران کی اسمبلی اجلاسوں میں عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جن سیکرٹریز پر لازم ہے کہ وہ اسمبلی اجلاس میں آئیں، انہیں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ہر صورت حاضر ہونا چاہیے.
ملک محمد احمد خان نے احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی سخت مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہاحتجاج ہر کسی کا حق ہے اور اس کے لیے کسی کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن احتجاج کی آڑ میں ’کرمنل ایکٹ‘ (مجرمانہ کارروائیوں) کی اجازت نہیں دی جا سکتی
کسی کی زندگی مفلوج کر کے اپنا حق مانگنا درست عمل نہیں ہے. میں سڑکیں بند کرنے کے سخت خلاف ہوں.
شہر میں کرکٹ میچز کے دوران ٹریفک کی بدتر صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ کرکٹ ٹیم کی نقل و حرکت کی وجہ سے پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ:
پی سی بی کو چاہیے کہ ٹیم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسٹیڈیم لے کر جائیں تاکہ شہریوں کو مشکلات نہ ہوں یا پھرمتبادل کے طور پر اسٹیڈیم کے قریب ہی ٹیم کے قیام کا کوئی انتظام کیا جانا چاہیے۔
اسپیکر نے 14 اگست کے حوالے سے ایک سیاسی جماعت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ”میں نے 14 اگست کو کبھی نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) کا جھنڈا نہیں اٹھایا بلکہ ہمیشہ قومی پرچم تھاما”۔ایک سیاسی جماعت نے آزادی کے دن بھی پاکستان کے بجائے اپنی پارٹی کا جھنڈا اٹھا کر غلط روایت قائم کی۔جن لوگوں کو 14 اگست کے تقدس کا احساس نہیں، وہ بسنت جیسے ایونٹس کو بھی سیاسی رنگ دے سکتے ہیں۔
کوتاہی برداشت نہیں، احتجاج کی آڑ میں سڑکیں بند کرنا غلط ہے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان

