اسلام آباد :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو آنکھوں کے طبی ماہرین کی تجویز پر گذشتہ ہفتے کی شب پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا اور 20 منٹ کی طبی کارروائی کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس پر پی ٹی آئی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رواں ہفتے بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ عمران خان کو آنکھوں کا سنگین مرض ’سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن (CRVO)‘ لاحق ہو سکتا ہے اور شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کے طبی معائنے اور ان تک رسائی کی اجازت کے لیے درخواست کی ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔
تاہم جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ عمران خان ’بالکل ٹھیک‘ اور ’صحت مند‘ ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’آنکھوں کے طبی ماہرین نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا معائنہ کیا، جس کے بعد انہوں نے تجویز دی کہ ایک معمولی طبی کارروائی کے لیے انہیں پمز لے جانا ضروری ہو گا۔
’گذشتہ ہفتے کی رات ان ہی آنکھوں کے ڈاکٹروں کی سفارش پر ان کو پمز لے جایا گیا اور پمز میں ان کی آنکھوں کا مزید معائنہ ہوا، جس کے بعد تحریری طور پر ان کی رضامندی کے بعد 20 منٹ کی طبی کارروائی ہوئی اور پھر انہیں ضروری ہدایات کے ساتھ واپس اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔‘وفاقی وزیر کے مطابق: ’طبی کارروائی کے دوران بھی وہ بالکل ٹھیک تھے۔‘
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ’تمام قیدیوں کو جب کوئی ایسا مسئلہ ہو تو ڈاکٹرز تک رسائی دستیاب ہوتی ہے اور یہ بالکل قواعد کے مطابق ہے۔‘ذرائع کے بقول عمران خان کے پمز ہسپتال میں آنکھ کے حالیہ علاج کے متعلق رپورٹ وزیراعظم کو بھی بھجوائی گئی ہے۔
عمران خان کو پمز ہسپتال میں 20 منٹ پروسیجر کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، عطااللہ تارڑوفاقی وزیراطلاعات

