واشنگٹن: امریکا نے پاکستان سمیت 75ممالک کیلئے امیگرینٹ ویزہ پراسیسنگ روک دی
امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کئی ملکوں کے شہری امیگرینٹ ویزے پرامریکا آنے کے بعد واپس نہیں جاتے، امریکا نے امیگرینٹ ویزہ پراسیسنگ غیرمعینہ مدت کیلئے روکی ہے۔
The State Department will pause immigrant visa processing from 75 countries whose migrants take welfare from the American people at unacceptable rates. The freeze will remain active until the U.S. can ensure that new immigrants will not extract wealth from the American people.
— Department of State (@StateDept) January 14, 2026
امریکی وزارت خارجہ نے پبلک چارج رول کے مطابق امیگرینٹ ویزہ پراسیسنگ منجمد کی۔ فراڈ ، جانچ پڑتال اور حکومت پر بوجھ بننے کے خدشات کے باعث فیصلہ کیا گیا۔ امریکا نے پاکستان سمیت 75ممالک کیلئے امیگرینٹ ویزہ پراسیسنگ غیرمعینہ مدت کیلئے روکی ہے۔ ان ممالک میں صومالیہ ، سوڈان، تنزانیہ ، شام ، تھائی لینڈ، تیونس ، یوگنڈا، یمن، یوراگوئے، ازبکستان بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی شہریوں کو دھوکہ دینے والے تارکین وطن کی شہریت منسوخ ہوگی۔ ڈیٹرائٹ اکنامک کلب میں منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری انتظامیہ صومالیہ یا کسی بھی دوسرے ملک سے تعلق رکھنے والے ایسے تارکین وطن کی شہریت منسوخ کرنے جا رہی ہے جنہوں نے ہمارے کسی شہری کو دھوکہ دیا ہو، ہم ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے جا رہے ہیں جنہوں نے ہمارے شہریوں کو دھوکہ دیا ہو اور اس میں انہیں سزا ہوئی ہو، ایسے لوگوں کی شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔
بتایا جارہا ہے کہ امریکا نے ویزہ قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق کارروائی کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد افراد کے ویزے منسوخ کر دیئے ہیں جن میں ہزاروں غیر ملکی طلباء اور روزگار کے لیے آنے والے افراد بھی شامل ہیں، امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے پہلے سال کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ کیے گئے، ان میں کاروبار اور سیاحت کے ویزے رکھنے والے وہ افراد بھی شامل تھے جو مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں قیام پذیر رہے۔
معروف تجزیہ نگار مائیکل کوگلمین کا اپنی ایکس پر پوسٹ میں کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکاکے درمیان سفارتی تعلقات میں آنے والی نمایاں بہتری اور اعلیٰ سطح کے رابطے بھی اس فیصلے کو روکنے میں ناکام رہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ ‘ویزہ فریز’ (Visa Freeze) پالیسی کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ ان کی وسیع تر قومی سلامتی اور امیگریشن اصلاحات کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
Pakistan is among 75 countries reportedly hit with an indefinite visa processing freeze by the Trump administration.
The resurgence in Pakistan’s ties with the US apparently didn’t shield it from this.
Bangladesh, Bhutan, and Nepal are also on the list.
— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) January 14, 2026

