تہران+پیرس: ایران میں حکومت کی سختی کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کو بھی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مظاہروں پر روک تھام کے لیے انٹرنیٹ کی بندش بھی برقرار ہے۔
1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران پر حکمرانی کرنے والے مذہبی نظام کے خاتمے کے لیے بڑھتے ہوئے مطالبات کے ساتھ، اشیائے روزمرہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف یہ احتجاجی تحریک 13 دنوں سے تقریباً پورے ایران میں جاری ہے۔
غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے شمالی ضلع سعادت آباد میں لوگوں نے برتن پیٹتے ہوئے ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے، جب کہ گاڑیوں نے مظاہرین کی حمایت میں ہارن بجائے۔
دیگر سوشل میڈیا تصاویر میں تہران میں دیگر جگہوں پر بھی اسی طرح کے مظاہروں کو دکھایا گیا ہے، جب کہ ایران سے باہر فارسی زبان کے ٹیلی ویژن چینلز کی طرف سے شائع ہونے والی ویڈیوز میں مشرقی شہر مشہد، شمال میں تبریز اور مقدس شہر قم میں نئے مظاہروں میں عوام کو بڑی تعداد میں حصہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
یہ مظاہرے جمعرات کو ہونے والے بڑے مظاہروں کے بعد ہوئے جو کہ 2022-2023 کے احتجاجی تحریک کے بعد ایران میں سب سے بڑے مظاہرے تھے جو مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد شروع ہوئے، جسے خواتین کے لباس سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ ریلیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں سرکاری حکام نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے لیے "ملک بھر میں انٹرنیٹ بند” کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ "انٹرنیٹ بندش” کا مقصد "بین الاقوامی قانون کے تحت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جرائم کی حد کو چھپانا ہے جو وہ احتجاج کو کچلنے کے لیے کر رہے ہیں”۔
ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس نے گذشتہ روز جاری کردہ 45 ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک کم از کم 51 مظاہرین کی موت کا دعویٰ کیا ہے جن میں نو بچے بھی شامل ہیں۔
آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپی یونین کا مشترکہ بیان
جمعے کے روز ایک مشترکہ بیان میں آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایرانی حکومت کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ "اپنی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ضرورت سے زیادہ اور مہلک طاقت کے استعمال کو فوری طور پر بند کرے”۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ "بہت ساری اموات– تاحال 40 سے زیادہ جانیں پہلے ہی ضائع ہو چکی ہیں۔”
وہیں فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے رہنماؤں نے بھی جمعہ کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ایران میں مظاہرین کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے حکام پر زور دیا کہ وہ "تحمل کا مظاہرہ کریں”۔
ایران میں انٹر نیٹ بندش برقرار، مظاہروں کا سلسلہ جاری، ہلاکتیں بڑھنے لگیں، یورپی یونین کی مذمت

