لاہور:وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں سٹروک، فالج مینجمنٹ پروگرام کا آغاز کرکے صحت کے نظام میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب پنجاب کے ہر ضلع میں سٹروک سنٹرز قائم کیے جائیں گے، جہاں تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور جدید مشینری کے ذریعے فالج کے مریضوں کا فوری علاج ممکن ہوگا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق یہ پروگرام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ فالج کے کسی بھی مریض کو جان لیوا صورتحال میں دور دراز شہر نہ جانا پڑے۔ سٹروک کے مریض کو 4 گھنٹے کے اندر قریبی اسپتال پہنچانے سے عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔ یہ 4 گھنٹے کا وقت ’گولڈن آور‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
پنجاب میں مرحلہ وار سٹروک سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے گا: پہلے 30، پھر 15 اور آخر میں باقی 24 ضلعی اسپتالوں میں جدید سہولیات کے ساتھ سینٹرز قائم ہوں گے۔ ہر ضلع میں ماہر نیورالوجسٹ اور پیڈز نیورالوجسٹ تعینات ہوں گے اور سی ٹی سکین مشینیں ہر وقت دستیاب ہوں گی۔
مزید برآں، فالج کے علاج کے لیے جدید ترین ٹی پی اے اور ٹی این کے انجیکشنز فراہم کیے جائیں گے، اور ڈاکٹروں کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ ایمرجنسی میں فوری انجکشن لگانے کے اہل ہوں۔ اس تربیت کا ہدف وسط فروری تک مکمل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام کو فالج کی علامات اور فوری علاج کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے موثر آگاہی مہم چلانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر مریض کو قریب ترین ہسپتال میں ایمرجنسی علاج کی سہولت فراہم کرنا ان کا وژن ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ چاہتی ہوں کہ کسی مریض کو ایمرجنسی کی صورت میں دور دراز شہر نہ جانا پڑے۔ ہر ضلع میں سٹروک سنٹر بنائے جا رہے ہیں، اور ہم بتدریج تحصیلوں تک اس سہولت کا دائرہ بڑھائیں گے۔
خبردار! فالج کے پہلے 4 گھنٹے زندگی بدل سکتے ہیں: مریم نواز نے پنجاب کو ‘سٹروک مینجمنٹ’ کا پہلا صوبہ بنا دیا

