(بے نقاب نیوز )
موٹاپے کے شکار افراد کے لیے ایک بڑی اور حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے نہ صرف علاج کے شعبے بلکہ فوڈ انڈسٹری کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وزن کم کرنے والی نئی GLP-1 گولی کی منظوری کے بعد ماہرین ایک بڑی تبدیلی کی پیش گوئی کر رہے ہیں، کیونکہ یہ گولیاں انجیکشن کے مقابلے میں سستی، آسان اور عام صارف کے لیے قابلِ قبول سمجھی جا رہی ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوری سے امریکا میں بھوک کم کرنے والی GLP-1 گولیوں کی باقاعدہ دستیابی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ تعداد میں افراد ان ادویات کا استعمال شروع کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی رجحان فوڈ انڈسٹری کو اپنی مصنوعات اور مارکیٹنگ حکمتِ عملی میں وسیع پیمانے پر تبدیلی پر مجبور کرے گا۔امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے دوا ساز کمپنی نووو نورڈسک کی وزن کم کرنے والی گولی ویگووی کی منظوری کے بعد بڑی فوڈ کمپنیوں کے شیئرز میں واضح کمی دیکھی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار اس تبدیلی کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق GLP-1 استعمال کرنے والے صارفین نمکین اسنیکس، بیکری آئٹمز، سافٹ ڈرنکس اور شراب پر کم خرچ کرتے ہیں، جبکہ پروٹین اور فائبر سے بھرپور صحت مند غذا کی طرف زیادہ مائل ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی رجحان آنے والے برسوں میں عالمی فوڈ مارکیٹ کا رخ بدل سکتا ہے۔اندازے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ دوا ساز کمپنی ایلی للی کی اسی نوعیت کی حریف دوا بھی اگلے سال منظوری حاصل کر سکتی ہے، جس کے بعد وزن کم کرنے والی گولیوں کا استعمال مزید عام ہو جائے گا۔ یوں موٹاپے کے خلاف یہ نئی دوا صرف طبی میدان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ انسانی خوراک اور طرزِ زندگی میں بھی گہری تبدیلی کا سبب بنے گی۔

