Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      دبئی میں ایمیزون (AWS) کا ڈیٹا سینٹر ملبے کا ڈھیر، عالمی ٹیک انڈسٹری میں زلزلہ!

      جنگ،قطری فضائی حدود بند: قطر ایئرویز نے دوحہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دیں

      ایپل سے بھی مہنگا،سام سنگ نے اسمارٹ فون گلیکسی ایس 26 لانچ کردیا ،جدید فیچرز شامل

      125 سی سی سے بڑی بائیک پر پابندی ، والد کا حلف نامہ لازمی: 16 سالہ کم عمر نوجوانوں کے لائسنس کا اجرا

      آئی ایم ایف سے قرض کی بھیک اور وزراء ،بیوروکریٹس کے لیے اربوں کی شاہ خرچیاں،پنجاب حکومت کا پرتعیش گاڑیوں کی خریداری کیلئے1 ارب 14 کروڑ مختص

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      دبئی ائیرپورٹ پر میزائل حملہ ، 4 زخمی

      مناما،امریکی پانچواں فلیٹ سروس سینٹر کا تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد مکمل صفایا

      ابوظہبی ، ایرانی میزائل حملے کے بعد خوف وہراس،ایک ہلاک، شہری پناہ لینے پر مجبور

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

      شمالی وزیرستان کی ‘ننھی سپن سٹار’ نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ترکیئےمیں طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف جنرل الحداد سینئر فوجی حکام کے ہمراہ جاں بحق

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    انقرہ+طرابلس:ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد دیگر اعلی حکام کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک فالکن 50 طیارے میں چار دیگر افراد کے ساتھ سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔

    لیبیا کے صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہازنے منگل 23 ستمبر کو انقرہ سے مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 17 منٹ پر اڑان بھری۔
    ڈائریکٹر کیمونیکشن برہانتین دیوران نے کہا کہ جہاز نے 8 بج کر 33 منٹ پر کنٹرول ٹاور سے دوبارہ رابطہ کیا اور تکینکی وجوہات کی بنا پر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی۔
    ایسے میں جب ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی تیاری کی جا رہی تھی کہ جہاز  تیزی سے نیچے آنے لگا اور 8 بج کر 36 منٹ پر یعنی 19 منٹ کے بعد جہاز ریڈار سے غائب ہو گیا اور اس کے بعد جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
    حادثے کا شکار ہونے والا جہاز ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے لیبیا کے درالحکومت طرابلس جا رہا تھا ۔جہاز میں فوج کے سربراہ کے علاوہ فوج کے دیگر آٹھ سینیئر حکام موجود تھے۔لیبیا کے چیف آف سٹاف محمد علی احمد الحداد کے ہمراہ لیبیا کی لینڈ فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فوتوری گریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ کارپوریشن کے کمانڈربریگیڈیئر جنرل محمود الکتاوی، لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے مشیر محمد العسوی دیاب اور جنرل سٹاف کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محکب جہاز میں موجود تھے

    ا۔لیبیا کی فوج کے سربراہ فالکن 50 نامی جٹ طیارے میں سوار تھے۔ یہ جہاز 1988 کا بنا ہوا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کا ملبہ ایئر پورٹ سے 105 کلو میٹر دور کے ایک دیہات سے ملا ہے جو تقریبا دو کلومیٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔
    جہاز لیبیا کی حکومت کا نہیں تھا بلکہ اسے آفریقی مالٹا میں میں موجود ایک کمپنی سے لیز پر لیا گیا تھا۔
    اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جہاز کا بلیک باکس ابھی تک نہیں ملا ہے۔

    حادثے کی تحقیقات کے لیے لیبیا نے اپنا ایک وفد انقرہ بھجوا رہا ہے۔ لیبیا کے وزیر برائے اطلاعات محمد عمار الافیی نے کہا کہ ’اب تک رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے جہاز حادثے کا شکار ہوا۔
    امریکی ٹیلیویژن نیٹ ورک این بی سی نیوز اور غیرملکی نیوز ایجنسی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے عملے کے ارکان لیبیا کے نہیں تھے۔ تاہم ان تینوں افراد کی شناخت اور قومیت سے متعلق تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
    یاد رہے کہ لیبیا میں 24 اور 25 دسمبر کو یوم آزادی کی تقریبات کا انعقاد ہونا تھا۔ تاہم اس حادثے کے بعد وزیر اعظم دیبے نے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین دن تک تمام ریاستی اداروں پر پرچم سرنگوں رہیں گے جبکہ تمام سرکاری اور جشن کی تقریبات معطل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
    جنرل محمد علی احمدالحداد کون تھے؟
    جنرل محمد علی احمد الحداد 2015 میں طرابلس کے فوجی ضلع میں ایک سینیئر کمانڈر بنے۔ ان کی پوسٹنگ مغربی لیبیا کے انتہائی نازک فوجی علاقوں میں تھی۔
    محمد علی احمد الحداد طرابلس میں مزاحمت کرنے والے صفِ اول کے کمانڈروں میں سے ایک تھے۔ علی احمد الحداد نے ملک کے مشرق میں فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی قومی فوج کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
    علی احمد الحداد کو ستمبر 2020 میں لیبیا کی حکومتِ قومی معاہدے کے ذریعے لیبیا کی مسلح افواج کا چیف آف سٹاف
    مقرر کیا گیا۔جنرل محمد علی احمد الحداد لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر پانچ سال سے زائد عرصے تک فائز رہے اور انھوں نے ترکی کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    Related Posts

    ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ: امریکا جلد اس کا جواب دے گا، صدر ٹرمپ

    آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید

    امریکا کا اپنے شہریوں کو 12 سے زائد خلیجی ممالک فوری چھوڑنے کا حکم

    مقبول خبریں

    ملتان سلطانز کے فینز کے لیے بڑی خوشخبری: نئے مالک اور نئے جوش کے ساتھ ٹیم کی واپسی!

    ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ: امریکا جلد اس کا جواب دے گا، صدر ٹرمپ

    امریکا کا اپنے شہریوں کو 12 سے زائد خلیجی ممالک فوری چھوڑنے کا حکم

    ایک ساتھ دو چھٹیاں، سرکاری نوٹیفکیشن جاری

    ”جنگی بساط پر ‘آبنائے ہرمز’ کی بندش دنیا کو شہ مات،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں راکٹ کی طرح اوپر جائیں گی، فیکٹریاں اور کارخانے مفلوج، معشیتیں وینٹی لیٹر پر

    بلاگ

    ”خامنہ ای کی شہادت اور رجیم چینج کی امریکی خواہش“ میاں حبیب کاکالم

    پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں،،، ملک سلمان کا کالم

    تیل کی آخری بوند اور دم توڑتی شہ رگ

    ملکیت کا دفاع یا طاقت کا استعمال؟ پنجاب میں نیا قانونی موڑ

    ”افغانستان میں پاک فضائیہ کی کارروائی کارروائی“ میاں حبیب کا کالم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.