تحریر: اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پنجاب پولیس میں آج کل جرائم کے خلاف نہیں بلکہ وائرل ہونے کے خلاف مقابلہ جاری ہے۔ اس مقابلے میں اس وقت دو پی ایس پی خواتین افسران کے نام نمایاں ہیں۔ ایک طرف پنجاب پولیس کے شعبہ موٹر ٹرانسپورٹ کی سربراہ ایس ایس پی ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری اور دوسری طرف اے ایس پی شہر بانو نقوی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ڈاکٹر انوش کے وائرل کلپس ماضی کی یادگار ہیں، جبکہ اے ایس پی شہر بانو کے کلپس حال کا شور بن چکے ہیں۔ حالیہ وائرل کلپ میں اے ایس پی شہر بانو ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کر رہی ہوتی ہیں کہ اچانک SHO کی کال آتی ہے۔ کال سنتے ہی وہ میزبان سے کہتی ہیں ”مجھے کال آ رہی ہے، قتل کا واقعہ ہے، میں آتی ہوں“ اور یوں پوڈکاسٹ چھوڑ کر روانہ ہو جاتی ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ واپس آتی ہیں اور گفتگو دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جملہ سادہ نہیں تھا، یہ جملہ پنجاب پولیس میں ایک نئی بحث چھوڑ گیا۔ سوال یہ نہیں کہ قتل ہوا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ پروفیشنل ازم کیا واقعی ایک جملے سے ثابت ہو جاتا ہے؟ یہ کلپ پنجاب پولیس کے افسران میں زیرِ بحث رہا۔ بددلی بھی پھیلی اور حیرت بھی۔ افسران نجی محفلوں میں پوچھتے دکھائی دیے کہ اگر یہی حرکت کوئی رینکر افسر کرتا تو کیا اس کا انجام معطلی نہ ہوتا؟ اگر کوئی مرد DSP یا SHO پوڈکاسٹ چھوڑ کر اس انداز میں “قتل” کا اعلان کرتا تو کیا اسے شوکاز نوٹس نہ ملتا؟ یہاں مسئلہ شہر بانو نہیں، پالیسی کا دوہرا پن ہے۔ یاد کیجیے، سابق ڈی پی او احمد محی الدین جو کبھی پنجاب پولیس میں سوشل میڈیا کے سب سے زیادہ وائرل افسر تھے. انہیں بھی خاموش کرا دیا گیا۔ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات آئیں، پولیس افسران اور اہلکاروں کے ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر آنے پر کارروائیاں ہوئیں۔ ممتاز صحافی و کالم نگار ملک محمد سلمان کے کالم کے بعد تو دیگر محکموں، حتیٰ کہ واسا اور بیوروکریسی تک، پر بھی سوشل میڈیا پابندیاں لگ گئیں۔
مگر سوال وہیں کا وہیں ہے. کیا یہ پابندیاں سب کے لیے ہیں؟ پولیس کے اندر یہ چہ مگوئیاں بھی عام ہیں کہ اے ایس پی شہر بانو کے دفتر اگر کوئی سائل چلا جائے تو اسے کرسی نہیں، کھڑے ہو کر انصاف ملتا ہے۔ درخواست بھی کھڑے ہو کر، کھلی کچہری بھی کھڑے ہو کر۔ نتیجہ یہ کہ سائل بھی کھڑے اور نظام بھی۔ دوسری طرف، سوشل میڈیا پر آنے کی اجازت؟ وہ کھلی ہے۔ مرد افسر یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ شاید وہ اس قابل نہیں کہ کیمرے کے سامنے آ سکیں۔ خاص طور پر رینکر افسران کے لیے تو سوشل میڈیا گویا جرمِ ناقابلِ معافی ہے۔اسی تضاد پر کبھی ایک سابق ڈی آئی جی آپریشن نے، ایک صحافی کے تعارف پر، مسکرا کر کہا تھا:
ہماری ایک لیڈی کانسٹیبل کے بھی ملین سبسکرائبرز ہیں۔ یہ جملہ مذاق نہیں تھا، یہ سسٹم کا خلاصہ تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس میں پروفیشنل ازم کا معیار وردی سے جڑا ہے یا فالوورز کی تعداد سے؟ کیا نظم و ضبط صنف دیکھ کر بدل جاتا ہے؟
کیا قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے اور وائرل پر معطل ہو جاتا ہے؟
جب تک ان سوالوں کا واضح جواب نہیں دیا جاتا، تب تک ہر نیا وائرل کلپ صرف ایک ویڈیو نہیں ہوگا، بلکہ آئی جی پنجاب کی پالیسی پر ایک اور سوالیہ نشان ہوگا۔


