کراچی:مشہور یوٹیوبر سعد الرحمن المعروف ڈکی بھائی نے غیرقانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزام میں سو دن نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی حراست سے رہائی کے بعد آج اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اپنے تفتیش کاروں پر تشدد اور رشوت کا الزام عائد کیا ہے۔
یک گھنٹے طویل ویڈیو بیان میں انہوں نے اپنی گرفتاری، تشدد، ذہنی اذیت، فیملی کی ہراسانی اور رشوت طلبی سے متعلق تفصیلی بات کی۔
انہوں نے سائبر کرائم کے قومی ادارے کے اہلکاروں پر حراست کے دوران ان پر شدید جسمانی تشدد، بلیک میل اور ان کے کرپٹو اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر 9 کروڑ روپے زبردستی ایک اہلکار کے ذاتی والٹ میں منتقل کروانے کے الزامات بھی لگائے۔ن کے مقدمے سے وابستہ این سی سی آئی اے کے سات افسران گرفتار ہوئے اور بعض نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اپنے تفتیشی آفیسر ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری پر جو اس الزام میں گرفتار ہیں بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔ ان کی یا ان کے ادارے این سی سی آئی اے کی جانب سے ان الزامات پر ابھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔16 اگست 2025 کو وہ اہلیہ کے ہمراہ ملائشیا کے سرکاری ایونٹ کے لیے روانہ ہو رہے تھے کہ ایئرپورٹ امیگریشن پر انہیں ایف آئی آر کی بنیاد پر روکا گیا اور چند ہی لمحوں بعد سائبر کرائم اہلکاروں نے ہتھکڑی لگا کر گرفتار کر لیا۔ ان کے مطابق انہیں گلبرگ دفتر منتقل کیا گیا جہاں ان سے پاس ورڈز، ای میلز اور تمام ڈیجیٹل ریکارڈ لینے کے باوجود اہلکاروں نے بار بار تھپڑ مارے، گالیاں دیں اور ایک سات سالہ بچے کے سامنے ویڈیو کال پر تشدد دکھایا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انویسٹی گیشن آفیسر اور اس کے ’فرنٹ مین‘ نے بار بار رشوت طلب کی، کبھی 7 تا 8 کروڑ، کبھی 60 لاکھ، اور کبھی ڈیڑھ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔ ڈکی بھائی کے مطابق اہلکاروں نے ان کی اہلیہ کو بھی کیس میں نامزد کرنے کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ ’یہاں جج بھی ہم ہیں، وکیل بھی ہم ہیں۔‘
ڈکی بھائی نے الزام لگایا کہ اہلکاروں نے ان کے، اہلیہ کے، والدین کے، بھائی کے اور حتیٰ کہ 80 سالہ دادا کے بینک اکاؤنٹس تک بلاک کر دیے،یوٹیوبر کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے دفتر میں موجود ایک سینیئر شخص جنہیں انہوں نے بطور ’بگ برادر‘ بتایا اور شناخت نہیں کی ان سے کئی بار ملے اور رشوت کے بارے میں دریافت کیا لیکن انہیں نہ جاننے کی وجہ سے انہوں نے انہیں کچھ نہیں بتایا۔ ان کی شناخت انہوں نے کہا کہ اس شخص کے کہنے پر نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ رشوت لینے والے اہلکار مطلوبہ رقم نہ دینے پر مزید پرچے دینے کی دھمکی دیتے رہے۔ آخر میں ڈکی بھائی نے کہا کہ ان کا کیس قانون کے مطابق چلا لیکن وہ قوم سے معافی چاہتے ہیں اگر ان کے کسی بھی کانٹینٹ نے کبھی کسی کو نقصان پہنچایا ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت انہیں انصاف دے گی اور وہ عدالتی فیصلے کو تسلیم کریں گے۔
آخر میں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ڈی جی ایم آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’جنہوں نے اتنی پروفیشنلزم دکھائی اور مجھے کرپٹ مافیا سے نکلنے میں مدد کی۔

