کراچی :پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش بالآخر تقریباً 15 گھنٹے بعد تلاش کر لی گئی ہے۔
کراچی کے ڈپٹی مئیر سلمان مراد کا کہنا ہے کہ ریسکیو اداروں نے انھیں آگاہ کیا ہے کہ تین سالہ بچے کی لاش مل گئی۔ بچے کی تلاش کا کام گذشتہ رات سے جاری تھا۔اس سے قبل ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا تھا کہ ڈوبنے والا بچہ اپنے والدین کے ساتھ نیپا چورنگی کے نزدیک واقع نجی ڈیپارٹمنٹل سٹور میں شاپنگ کے لیے آیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ شاپنگ کے بعد فیملی باہر نکلی تو بچہ مین ہول پر چڑھا اور نیچے گر گیا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہیوی مشینری کے ذریعے واٹر چینل کی کھدائی کی گئی تاکہ مزید تلاش کا کام کیا جا سکے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بچے کے والد نبیل نے بتایا تھا کہ وہ شاہ فیصل کالونی کے رہائشی ہیں اور اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ شاپنگ کرنے آئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی موٹر سائیکل مین ہول کے قریب کھڑی کی تھی، جب وہ شاپنگ کرنے کے بعد باہر نکلے تو بیٹا ہاتھ چھڑا کر بھاگا۔بچے کے والد کا کہنا تھا کہ ’میری آنکھوں کے سامنے میرا بیٹا گٹر میں گرا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ مین ہول پر ڈھکن موجود نہیں تھا۔ ’میری اکلوتی اولاد تھی، بہت مشکل وقت ہے۔،بچےکی ماں شدت غم سے نڈھال،دہائی نے ہر آنکھ کو نم کردیا۔
کل کے افسوس ناک واقعہ کی وجہ سے آج سٹی کونسل اجلاس کو مختصر رکھا گیا ۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ہماری یہ کوشش تھی کہ آج کے کونسل کے اجلاس میں اسی واقعہ سے متعلق گفتگو کی جائے۔ قانون ساز کونسل ہونے کے ناتے ہم معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر جماعت اسلامی کے دوست تعمیری سیاست پر یقین نہیں رکھتے صرف اور صرف تنقید کی سیاست کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے لوگ الزام لگانے سے پہلے یہ نہیں دیکھتے کہ ٹاؤن کس کا ہے اور یوسی کس چیئرمین کی ہے۔ میئر کراچی کے مطابق جماعت اسلامی نے سٹی کونسل کا اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی نعرے بازی شروع کردی اور وہ پہلے سے ہی سٹی کونسل میں پلے کارڈز اور بینرز لے کر آئے تھے۔

