واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس جنگ کو کسی بھی وقت ختم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس کچھ نہیں بچا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ’’یہ جنگ تب ختم ہو گی جب میں چاہوں گا‘‘۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنے اہم فوجی مقاصد بڑی حد تک حاصل کر لیے ہیں۔مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران شکست کے قریب پہنچ رہا ہے۔بدھ کی شام دیے گئے اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کی پوزیشن بہت مضبوط اور بہتر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی فضائی اور بحری دونوں افواج سے محروم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق تہران کے پاس اب فضائی حملوں سے دفاع کا کوئی مؤثر نظام بھی موجود نہیں رہا۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران میں اب "نشانہ بنانے کے لیے تقریباً کچھ نہیں بچا”، جس سے تنازعہ جلد ختم ہونے کا امکان ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیَس (Axios) کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ امریکی اور اتحادی افواج کے پے در پے حملوں کے بعد ایران کی کئی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جنگ کو "جب چاہیں گے” ختم کر دیں گے۔
کینٹکی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں جلد ہی بہت کم ہوں گی اور اس قدر کمی کا کسی کو گمان بھی نہیں ہو گا۔ 32 ممالک کی جانب سے تیل کے ذخائر جاری کرنے کے فیصلے سے قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔
اس سے قبل انھوں نے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ’جنگ کا معاملہ‘ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’قیمتیں بہت نمایاں طور پر نیچے آ رہی ہیں۔ تیل نیچے آئے گا۔ یہ صرف جنگ کا معاملہ ہے جو ہوتا ہے۔ آپ تقریباً اس کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں کئی اہم ایرانی فوجی اڈوں، میزائل لانچرز اور فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنے اہم فوجی مقاصد کو بڑی حد تک پورا کر لیا ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور صورتحال کو مکمل طور پر پرسکون ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

