بیروت: حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے اعلیٰ فوجی کمانڈر ہیثم علی الطباطبائی (ابو علی) لبنان کے دارالحکومت پر اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ اتوار کے روز جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ دحیہ میں ایک اپارٹمنٹ بلاک پر حملے میں ہلاک ہونے والے کم از کم پانچ لوگوں میں گروپ کے مسلح ونگ کے چیف آف اسٹاف طباطبائی بھی شامل تھے۔
حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ "عظیم کمانڈر” طباطبائی "بیروت کے جنوبی مضافات میں حریت ہریک کے علاقے پر اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔”
طباطبائی حزب اللہ کے سب سے سینئر کمانڈر ہیں جو نومبر 2024 کی جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے مارے گئے۔ اس جنگ بندی کا مقصد دونوں کے درمیان ایک سال سے جاری لڑائی کو ختم کرنا تھا مگر جنگ بندی کے باوجود اسرائیل یکطرفہ طور پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیل نے اتوار کو لبنان کے دارالحکومت پر حملے کے بعد ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ کو خبردار کیا کہ وہ دوبارہ مسلح ہونے کی کوشش نہ کرے۔ لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ بیروت کے جنوبی مضافات میں ہونے والے حملے میں پانچ افراد ہلاک اور لوگ 25 دیگر زخمی ہوئے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ "ہم شمالی سرحد اور اسرائیل کے رہائشیوں کو کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے بھرپور طریقے سے کارروائی کرتے رہیں گے۔” فوج نے شمالی اسرائیل میں لبنانی سرحد کے قریب رہنے والوں کو ہدایت کی کہ وہ روزمرہ کے معمولات کو جاری رکھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے حزب اللہ کی جانب سے فوجی ردعمل کی توقع نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے طباطبائی پر حزب اللہ کو دوبارہ مسلح کرنے کی کوششوں کی قیادت کرنے کا الزام لگایا۔ جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں حالیہ ہفتوں میں شدت آئی ہے جب کہ اسرائیل اور امریکا نے لبنان پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

