لاہور:عدالت نے جوئے کی ایپ کی تشہیر کے مقدمے میں ملزم ڈکی بھائی سمیت دیگرملزمان کوفردجرم عائد کرنےکے لیے طلب کرلیا۔ دوسری طرف ضمانت کیس میں لاہور ہائیکورٹ ک جسٹس فاروق حیدر نے این سی سی آئی اے کو نوٹس جاری کردئیے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے یوٹیوبرسعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی سمیت دیگرکےخلاف کیس کی سماعت کی، ملزم ڈکی بھائی،عروب جتوئی، اوپی بابا اور سبحان نےعدالت پیش ہوکرحاضری مکمل کروائی۔
عدالت نے ملزمان کو مقدمے کے چالان کی کاپیاں تقسیم کیں اور تمام ملزمان کو17 نومبرکو فرد جرم کی کارروائی کے لیے طلب کرلیا۔
خیال رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ( این سی سی آئی اے ) نے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ ڈکی بھائی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے غیر قانونی جوا ایپلیکیشنز کی پروموشن کی، جس کے تحت ان کے خلاف 17 اگست کی نصف شب این سی سی آئی اے لاہور نے ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا۔
مقدمے میں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی شقیں 13 (الیکٹرانک جعلسازی)، 14 (الیکٹرانک فراڈ)، 25 (اسپیم) اور 26 (اسپوفنگ) کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 294-بی اور 420 بھی شامل ہیں۔
دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو یوٹیوبر سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیے۔
لاہور ہائیکورٹ جسٹس فاروق حیدر نے درخواست ضمانت پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سعد الرحمٰن کو گرفتار کرنے سے قبل غیر قانونی ایپس کے فروغ سے متعلق تحقیقات میں پیش ہونے کے لیے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔
درخواست میں کہا گیا کہ سعد الرحمٰن کو گرفتاری کے بعد 22 دن کے لیے ایجنسی کے ریمانڈ پر رکھا گیا اور ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں، تاہم ان کے ساتھ گرفتار کیے گئے دو دیگر افراد، سبحان شریف اور اسد ندیم مغل، کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔
درخواست میں عدالت سے سعد الرحمٰن کو ضمانت دینے کی استدعا کی گئی۔
جسٹس فاروق حیدر نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ کیس میں اپنے دلائل جمع کرائے۔
یوٹیوبر کی قانونی ٹیم نے 30 اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی، جبکہ اس سے قبل ان کی اسی نوعیت کی درخواستیں 22 ستمبر اور 2 اکتوبر کو بالترتیب ایک جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج نے مسترد کر دی تھیں۔

