Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      سنہری موقع ،ٹویوٹا نے فارچیونر کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کردی

      پاک بحریہ کی جدید ترین آبدوز ”ہنگور“ کو کمیشن کی تقریب

      ہوشیار! آپ کے برابر سے گزرتی گاڑی آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی کر سکتی ہے: کینیڈا میں ’ایس ایم ایس بلاسٹر‘ گینگ پکڑا گیا، 13 ملین فون متاثر!

      ڈیجیٹل دنیا میں ’مادری زبانوں‘ کا مسیحا: رحمت عزیز خان چترالی کا وہ کارنامہ جس نے پاکستان کا نام روشن کر دیا!

      مصنوعی ذہانت، نظریہ اور منافع—اوپن اے آئی تنازع اور پاکستان کا مستقبل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

      بیانئے کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    نیپال کی عبوری وزیراعظم کےلئے سابق چیف جسٹس سوشیلا کارکی کے نام پر اتفاق رائے

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    کٹھمنڈو : نیپال کی سابق چیف جسٹس سوشیلا کارکی نے عبوری رہنما کے طور پر ذمہ داری سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ نیپالی فوج کے ترجمان کے مطابق، آرمی چیف جنرل اشوک راج سگدل نے بدھ کو اہم شخصیات اور "جین زی” نمائندوں سے ملاقات کی۔  جس میں  عبوری حکومت کی قیادت کے لیے سوشیلا کارکی  کے نام پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔

    سوشیلا کارکی کے علاوہ کٹھمنڈو کے میئر بالن شاہ اور بجلی بورڈ کے سابق سربراہ کلمن گھسنگ کے نام بھی آئندہ رہنما کے طور پر زیرِغور آئے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری، رمن کمار کرن  کے  مطابق جین زی تحریک کے مظاہرین چاہتے ہیں کہ کارکی کو عبوری وزیرِاعظم بنایا جائے۔

    ’جین زی‘ تحریک میں نوجوانوں کے درمیان مشہور اور کٹھمنڈو کے میئر، بالین شاہ نے بھی سوشیلا کارکی کے نام کی حمایت کی ہے۔

    سوشیلا کارکی کون ہیں ؟

    سوشیلا کارکی کی پیدائش 7 جون 1952 کو نیپال کے بیراٹ نگر میں ہوئی۔ انہوں نے 1972 میں بیراٹ نگر سے گریجویشن کیا۔

    1975 میں انہوں نے بھارت کی بنارس ہندو یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور 1978 میں نپال کی تری بھون یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔

    1979 میں انہوں نے بیراٹ نگر میں وکالت شروع کی۔ ان کی عدالتی زندگی کا اہم موڑ 2009 میں آیا جب انہیں سپریم کورٹ میں عارضی جج مقرر کیا گیا۔ سن دو ہزار دس میں وہ مستقل جج بن گئیں۔ 2016 میں کچھ عرصے کے لیے وہ قائم مقام چیف جسٹس رہیں اور 11 جولائی 2016 سے 6 جون 2017 تک نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    سوشیلا کارکی کے سخت رویے کی وجہ سے انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اپریل 2017 میں اس وقت کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ان کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی۔ ان پرالزام تھا کہ انہوں نے جانبداری کی اور حکومت کے کام میں مداخلت کی۔ اس کے بعد انہیں عہدے سے معطل کر دیا گیا۔

    عوام نے عدلیہ کی آزادی کے حق میں آواز بلند کی اور سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا۔

    بڑھتے دباؤ کے باعث چند ہی ہفتوں میں پارلیمنٹ کو تحریک واپس لینا پڑی۔ اس واقعے کے بعد سوشیلا کارکی کی شناخت ایک ایسی جج کے طور پر بنی جو اقتدار کے دباؤ کے آگے نہیں جھکتی۔

     

     

    Related Posts

    میران شاہ، گل بہادر خوارجی گروپ سے درپا خیل قبائل کی جھڑپ، فتنہ الخوارج کے 4دہشت گرد جہنم واصل

    اسلام آباد، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 103 ملزمان گرفتار

    ایران امریکا کشیدگی، تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ جاری

    مقبول خبریں

    بیواؤں اور یتیموں کی دعائیں رنگ لے آئیں! مریم نواز کا 5 ارب روپے کا ’رحمت کارڈ‘ منصوبہ، ہر مستحق کو ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان

    سنہری موقع ،ٹویوٹا نے فارچیونر کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کردی

    اداکارہ کرشمہ کپور کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

    ایران امریکا کشیدگی، تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ جاری

    ڈیزل سے لدا پاکستانی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گذر کر کراچی روانہ

    بلاگ

    کے پی آئی کا دباؤ،، پنجاب میں گورننس کارکردگی کے بجائے نمبرز تک محدود

    موبائل فون اور دم توڑتی پرائیویسی۔!!!!

    لاہور، میانوالی، ننکانہ صاحب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات

    متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ کیوں؟

    خطرات کا گٹھ جوڑ — پاکستان ایک پوشیدہ جنگ میں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.