لاہور : وزیر اطلاعات و ثقافت عظمی بخاری کاکہنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کےلیے پنجاب کے پی اور سندھ کی حکومتوں کو مل کر چھوٹے بڑے ڈیمز بنانا ہوں گے،سیاست یا پروپیگنڈے کا نہیں متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔
ی جی پی آر لاہور میں وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے بہت بڑے سیلاب کےلیے ریسکیو آپریشن کیا جا رہاہے، سیلاب سے اب تک جتنا نقصان ہوا اس کا تخمینہ لگا رہے ہیں، ہمیں وہ مشورہ دے رہے ہیں جو ہماری نقل کرتے ہیں، پنجاب میں آنے والا سیلاب 1988 کے سیلاب سے کہیں زیادہ شدید ہے،یہ ایک سپر فلڈ” ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں آنے والے سیلاب سے اب تک 35 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور پنجاب نے چند گھنٹوں میں قیامت خیز صورتحال کا سامنا کیا،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ جھنگ کے دورے پر ہیں جہاں فیلڈ ہسپتال کے ذریعے 2500 دیہاتوں کو سروسز فراہم کی جا رہی ہے۔
پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن ہے جس میں انسانوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں جانوروں کو بھی محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا۔ ان کاکہنا تھاکہ اب تک آٹھ لاکھ ستاون ہزار افراد اور دو لاکھ اڑتیس ہزار جانور ریسکیو کیے جا چکے ہیں اور ایک سو اکاون فلڈ کیمپس قائم ہیں اور کشتیوں کے ذریعے خشک راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اے سی پتوکی فرقان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت انہیں سول ایوارڈ دینے کا اعلان کر چکی ہے، عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ 1,021 سڑکیں اور 64 پل متاثر ہوئے جن میں سے زیادہ تر کو مرمت کے بعد فعال کر دیا گیا ہے۔اس وقت سیاست یا پروپیگنڈے کا نہیں بلکہ متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے کسی بھی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کو این او سی نہیں دیا، مستقبل میں چھوٹے بڑے ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کو محفوظ کیا جا سکے اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی.

