لاہور :وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وزیراعلیٰ مریم نواز بھی نارووال روانہ ہوئیں، دونوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔
فضائی سفر کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وزیراعظم کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے متعلق بریفنگ دی، وزیراعظم کو پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی اور زیر آب علاقوں میں ریسکیو آپریشن پر بریف کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فضائی جائزہ کے دوران سیلابی صورت حال سے بچاؤ اور ریلیف آپریشن میں ضروری اقدامات کی ہدایات دیں۔
نارووال میں اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا کے بعد پنجاب کو طغیانی کا سامنا ہے، سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر ہم سب کو افسوس ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مؤثر پیشگی اطلاعات کے نظام کی وجہ سے نقصان کم ہوا، بارشوں سے گلگت بلتستان اور کے پی میں بہت جانی نقصان ہوا، کئی نئے چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنے کی ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے، پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت کے اقدامات یقیناً لائق تحسین ہیں، ریسکیو، پولیس، محکمہ ایری گیشن دن رات کام کر رہے ہیں۔ ٹیم ورک کی وجہ سے نقصان کو کم سے کم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ کرنا ہوگا، پانی ذخیرہ کرنے کیلئے اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا، آئندہ آنے والے سالوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنا ہے، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2022 میں اس طرح کی آفت آئی تھی اور تباہی ہوئی تھی، 2022 کی تباہی کا مرکزی نشانہ سندھ اور بلوچستان تھا جب لاکھوں ایکڑ پر کاشت تیار فصلیں تباہ ہوگئی تھیں۔

