لاہور:
موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی ایک بار پھر بے قابو ہونے لگی ہے، اور شہر دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست آ گیا ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) خطرناک اور انتہائی مضر صحت سطح کو عبور کر چکا ہے۔مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق شہر کے کئی اہم مقامات اور مانیٹرنگ اسٹیشنز پر آلودگی کی شرح 500 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ فضا میں زہریلے ذرات (PM2.5) کی زیادہ مقدار اور ہوا کی رفتار انتہائی سست ہونے کے باعث اسموگ کے بادل زمین کے قریب پھنس چکے ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ماہرینِ صحت نے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں: بالخصوص بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ باہر نکلتے وقت اچھے معیار کا ماسک لازمی استعمال کریں تاکہ زہریلی فضا براہِ راست نظامِ تنفس پر اثر انداز نہ ہو۔ گھروں کے اندر آلودہ ہوا کے داخلے کو روکے رکھنے کے لیے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھی جائیں۔ آنکھوں میں جلن، گلے کی تکلیف یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے پر فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے اس نازک دور میں جب تک فضا میں آلودگی کے مستقل اسباب پر قابو نہیں پایا جاتا، شہریوں کو خود احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اپنی اور اپنے عزیزوں کی صحت کی حفاظت کرنا ہوگی۔

