کراکوف: (بے نقاب نیوز)
پولینڈ کے تاریخی اور سیاحتی شہر کراکوف (Krakow) کے مین مارکیٹ اسکوائر میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 خواتین اور 2 مردوں سمیت 6 افراد ہلاک جبکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد زخمی ہو گئے۔ اس ہولناک واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔پولیس اور حکام کے مطابق، حملہ آور نے فوجی لباس پہن رکھا تھا اور وہ ایک گاڑی میں سوار ہو کر شہر کے مصروف ترین مرکزی چوک میں داخل ہوا، جہاں اس نے چلتی گاڑی سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آور کی شناخت ایک 25 سالہ پولش شہری کے طور پر ہوئی ہے۔رپورٹس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اہلکاروں نے محض تین منٹ کے اندر جوابی کارروائی کی۔ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور بھی زخمی ہوا، جسے حراست میں لے کر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور اکیلا تھا، تاہم تحقیقات کے دوران اس کے گھر سے مزید تین لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور کے خیالات شدت پسندانہ تھے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک برطانوی شہری بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ زخمی ہونے والوں میں آسٹریا، جرمنی، پرتگال، روس اور برطانیہ کے شہری بھی شامل ہیں۔ پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک (Donald Tusk) اور وزیر داخلہ نے واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے جانوں پر کھیل کر حملہ آور کا مقابلہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو "حقیقی ہیرو” قرار دیا ہے جنہوں نے بروقت کارروائی کر کے بڑے پیمانے پر مزید جانی نقصان کو روکا۔ یورپی یونین کے رہنماؤں نے بھی اس المناک واقعے پر پولینڈ کے عوام اور متاثرہ خاندانوں سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

