اسلام آباد:
حکومتِ پاکستان نے طویل مشاورت اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی رضامندی کے بعد نئی آٹو پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں آٹو موبائل انڈسٹری کو فروغ دینا، مسابقت کو بڑھانا اور عام صارفین کو نسبتاً سستی گاڑیاں فراہم کرنا ہے۔ پالیسی کے تحت مقامی سطح پر گاڑیوں کی پیداوار کو سہارا دیا جائے گا جس سے مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی متوقع ہے۔صارفین کو مالی مشکلات اور طویل تاخیر سے بچانے کے لیے یہ سخت ضابطہ بنایا گیا ہے کہ کوئی بھی کار ساز ادارہ خریداروں سے کل قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول نہیں کر سکے گا۔ آٹو سیکٹر کی برآمدات کو موجودہ 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں برآمدی اہداف حاصل نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔ ماحول دوست پالیسیوں کو ترجیح دیتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں اور چارجنگ اسٹیشنز کے لیے درآمدی ڈیوٹیز میں نمایاں چھوٹ دی گئی ہے، جبکہ الیکٹرک بائیکس اور گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے تک کر دی گئی ہے۔ گاڑیوں کے معیار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق بنانے کے لیے 45 نئے سیفٹی اور کوالٹی اسٹینڈرڈز کو اس پالیسی کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اس جامع پالیسی سے نہ صرف مڈل کلاس طبقے اور عام خریداروں کو ریلیف ملے گا بلکہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو بین الاقوامی معیار پر استوار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

