غزہ:
غزہ میں طوفانی اور موسلادھار بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی شدید سیلابی صورتحال نے پہلے سے جنگ زدہ اور بے گھر فلسطینیوں کی مشکلات میں ناقابلِ بیان اضافہ کر دیا ہے۔ نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہونے سے ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے بے آسرا ہو چکے ہیں۔حکومتی میڈیا آفس اور مقامی ذرائع کے مطابق، محض چند گھنٹوں کے دوران ہونے والی شدید بارش اور طوفان کی وجہ سے بے گھر فلسطینیوں کے 70 ہزار سے زائد خیمے مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکے ہیں، جس سے لاکھوں متاثرہ افراد شدید سردی اور کھلے آسمان تلے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ غزہ کے سول ڈیفنس حکام کا کہنا ہے کہ بارش کے پانی میں گھرے شہریوں کو نکالنے اور فوری امداد فراہم کرنے کے لیے رات بھر میں ڈیڑھ ہزار سے زائد ہنگامی کالز موصول ہوئیں ہیں۔ تاہم، طویل محاصرے اور جاری جنگ کی وجہ سے ضروری آلات، بھاری مشینری، ایندھن اور بنیادی وسائل کی شدید قلت ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک بروقت پہنچنے سے قاصر ہیں۔ تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور خیموں میں پانی بھر جانے کے باعث خواتین، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کے لیے سردی اور مختلف وبائی بیماریوں کے پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ مقامی حکام اور امدادی اداروں نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مخیر حضرات سے ہنگامی بنیادوں پر اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کے بے گھر عوام کے لیے خیمے، واٹر پروف شیٹس، کمبل، گرم کپڑے اور نئے عارضی سر چھپانے کے مقامات کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ اس انسانی المیے کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

