سیالکوٹ (بیورو رپورٹ سلیم احمد اعوان شیخو)
تھانہ اگوکی پولیس کی ناقص سیکیورٹی اور مبینہ غفلت کے باعث ڈکیتی کے سنگین مقدمے میں ملوث گرفتار دو ملزمان عدالت سے فرار ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق پولیس نے گزشتہ روز مختلف مقدمات میں گرفتار 21 ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تھا، جن میں تھانہ اگوکی کے ڈکیتی کیس میں نامزد ملزمان کاشف اور احمد بھی شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے ان ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا اور بعض ملزمان سے ریکوری کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔عدالت نے معمولی نوعیت کے مقدمات میں گرفتار متعدد ملزمان کو ڈسچارج جبکہ بعض کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا، جبکہ ڈکیت ملزمان کاشف اور احمد سمیت دیگر کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے انہیں پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔فرار ہونے والے ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ تھانہ اگوکی کے علاقے میں ایک گھر میں گھس کر اہل خانہ کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا اور نقدی، طلائی زیورات سمیت قیمتی سامان لوٹ لیا تھا۔عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جو پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے، ان سے ریکوری کرنے اور عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے دعوے کر رہی تھی، وہی پولیس انہیں عدالت کی تحویل یا اپنی نگرانی میں فرار ہونے سے کیوں نہ روک سکی۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا عدالت میں ملزمان کی نگرانی کے لیے کوئی پولیس اہلکار تعینات نہیں تھا؟شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ڈاکو گھروں میں گھس کر لوٹ مار کر رہے ہیں اور دوسری طرف پولیس کی تحویل سے ملزمان کا باآسانی فرار ہو جانا پولیس کے سیکیورٹی انتظامات اور کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ اگوکی کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، فرار ملزمان کو فوری دوبارہ گرفتار کیا جائے اور اس سنگین غفلت کی ذمہ داری طے کی جائے۔


