ٹیکسلا (شائستہ ضیاء )
معاشرے میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پہچان محض ان کا پیشہ، عہدہ یا کاروباری مقام نہیں بلکہ ان کی انسان دوستی، خلوص اور خدمتِ خلق کا جذبہ ہوتا ہے۔ ایسی ہی قابلِ قدر شخصیات میں ٹیکسلا کے معروف معالج ڈاکٹر سید اسد علی کا نام نمایاں ہے، جو شعبۂ طب میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مستحق اور نادار مریضوں کی خدمت کو بھی اپنا سماجی فریضہ سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر سید اسد علی ٹیکسلا کے علاقے احاطہ میں السید ہسپتال کے نام سے ایک معیاری طبی ادارہ چلا رہے ہیں، جہاں علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ عوام کو صحت کی بہتر خدمات مہیا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم ان کی شخصیت کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو اپنے والد بزرگوار سید فدا حسین کے نام سے قائم کردہ فدا حسین ویلفیئر ٹرسٹ ہے، جس کے ذریعے فلاحی سرگرمیوں اور مستحق افراد کی معاونت کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈاکٹر سید اسد علی کی خدمات کا ایک اہم اور قابلِ توجہ پہلو صحت کارڈ پروگرام کے تحت مستحق مریضوں کے پیچیدہ اور مہنگے آپریشنز کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ مقامی سطح پر دستیاب معلومات کے مطابق السید ہسپتال میں اب تک ڈیڑھ سو سے زائد ایسے پیچیدہ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن پر لاکھوں روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں مریضوں کے تشخیصی ٹیسٹ بھی مفت کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جو اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہسپتال انتظامیہ علاج معالجے کو صرف کاروباری سرگرمی نہیں بلکہ انسانی خدمت کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ صحت کارڈ پروگرام کے تحت حکومت کی جانب سے ہسپتال کو بعد ازاں ادا کی جانے والی رقم بعض کیسز میں آپریشن اور علاج کے حقیقی اخراجات سے کم ہوتی ہے، اس کے باوجود مریضوں کے علاج کا سلسلہ جاری رکھنا یقیناً ایک قابلِ توجہ سماجی اور انسانی خدمت ہے۔ کیونکہ کسی غریب خاندان کے لیے پیچیدہ آپریشن کے لاکھوں روپے کے اخراجات برداشت کرنا اکثر ناممکن ہو جاتا ہے اور ایسے میں صحت کارڈ جیسی سہولت اور اس سے مستفید ہونے کا موقع کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی بھی طبی ادارے کی اصل کامیابی صرف اس کی عمارت، مشینری یا جدید سہولیات سے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ مشکل وقت میں عام آدمی کے لیے کس قدر سہارا بنتا ہے۔ بالخصوص ایسے مریض جن کے پاس مہنگے علاج کے وسائل نہیں ہوتے، ان کے لیے کسی ہسپتال کے دروازے کھلے رکھنا اور انہیں علاج کی سہولت فراہم کرنا ایک بڑی انسانی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر سید اسد علی کی شخصیت کو محض ایک معالج کے حوالے سے دیکھنا ان کی سماجی خدمات کے دیگر پہلوؤں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ وہ اپنے پیشے کے ساتھ فلاحی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دیتے ہیں اور اپنے والد کے نام سے منسوب ٹرسٹ کے ذریعے خدمتِ انسانیت کے جذبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایک نفیس، ملنسار، ہمدرد اور انسان دوست شخصیت کے طور پر ان کے بارے میں مقامی حلقوں میں پائی جانے والی قدر و منزلت ان کی سماجی شناخت کا حصہ ہے۔
بلاشبہ ڈاکٹر سید اسد علی جیسے لوگ کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہیں صرف اس لیے نہیں سراہا جانا چاہیے کہ وہ ایک ہسپتال چلا رہے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ ان کی کوششوں سے ایسے افراد کو علاج کی امید ملتی ہے جو مالی مشکلات کے باعث اپنی بیماری کو قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ستارۂ امتیاز جیسے قومی اعزازات کی اصل روح بھی انہی شخصیات کی خدمات کے اعتراف میں پوشیدہ ہے جو اپنے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے ساتھ انسانیت کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر سید اسد علی جیسے خدمت گزار افراد کی حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ معاشرے میں خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
انسانی خدمت کے اس سفر میں ڈاکٹر سید اسد علی اور فدا حسین ویلفیئر ٹرسٹ کے لیے نیک تمنائیں!


