امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیروں سے اہم اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر ملٹری ایکشن، معاشی دباؤ یا سفارتی تصفیے کے آپشنز میں سے کسی ایک کا فیصلہ جلد کر لیں گے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران جن تجاویز پر غور کر رہا ہے ان کی تفصیلات اہم نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تہران واشنگٹن کی منظوری کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
بی بی سی عربی کے مطابق ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران کی باقیات کو تباہ کیا جائے، تاہم مجھے ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ کے دعوے کے مطابق امریکہ نے سات ماہ قبل ایران میں اپنی مداخلت شروع ہونے کے بعد سے ان تمام معاملات پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جن پر وہ کنٹرول کرنا چاہتا تھا۔انھوں نے کہا کہ آپ کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ ہم ایران کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گے۔
امریکی مڈ ٹرم الیکشنز میں ڈیموکریٹس کے ہاتھوں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ناکامی اور مہنگائی و جنگ پر عوامی ناراضی کے بعد، امریکی انتظامیہ ایران کی جوہری تنصیبات پر مزید حملوں کی تیاریوں اور قطر و روس کی ثالثی میں جاری 7 نکاتی مسودے پر غور کر رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے ماسکو میں صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام پہنچایا اور واضح کیا کہ تمام 7 شرائط کی منظوری تک آبنائے ہرمز کی بحالی یا مذاکرات ممکن نہیں۔ جبکہ امریکی سینٹ کام اضافی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کی مشرقِ وسطیٰ آمد کے پیشِ نظر الرٹ ہے۔

