سکھر (بیورو رپورٹ/ عبد الرحمان راجپوت)
سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور دیگر جائز مطالبات کی منظوری نہ ملنے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے محنت کش اسٹاف یونین سی بی اے کے زیرِ اہتمام احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا۔ دھرنے میں ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حقوق کی فراہمی اور زیرِ التوا مسائل کے فوری حل کے مطالبات درج تھے۔احتجاجی دھرنے کی قیادت محنت کش اسٹاف یونین سی بی اے سکھر میونسپل کارپوریشن کے جنرل سیکریٹری علی مردان شیخ، سینئر نائب صدر دانش قریشی، رابطہ سیکریٹری شاہد حسین جتوئی، ضلع کونسل سی بی اے کے جنرل سیکریٹری طارق حسین سولنگی، واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین کے رہنما سید زاہد حسین شاہ، رمیش لعل، آصف انڑ اور حنیف بگٹی سمیت دیگر مزدور رہنما کر رہے تھے۔ جبکہ ملازمین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے رہنما سید زاہد شاہ، صداقت علی زنگیجو اور نواز جسمانی سمیت دیگر شخصیات نے بھی دھرنے میں شرکت کی۔اس موقع پر مزدور رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ ملازمین کوئی خیرات نہیں مانگ رہے بلکہ اپنے آئینی اور جائز حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تنخواہوں، پنشن، بقایاجات، میڈیکل بلز، یونیفارم اور دیگر مراعات کی عدم فراہمی کے باعث ملازمین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، اس کے باوجود وہ اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے نبھا رہے ہیں۔رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ:ملازمین کے بنیادی مسائل کو فوری حل کیا جائے۔او زیڈ ٹی (OZT) شیئر میں اضافہ کیا جائے۔حکومتِ سندھ کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن میں کیے گئے اضافے پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔تمام اہل ملازمین کو ڈی پی سی (DPC) کے تحت ترقی دی جائے اور میڈیکل بلز سمیت تمام زیرِ التوا واجبات فوری ادا کیے جائیں۔سیوان ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے آنے والے افسران اور ملازمین کی جوائنٹنگ روکی جائے۔رہنماؤں نے سخت الفاظ میں الزام عائد کیا کہ میونسپل کارپوریشن کے تینوں ٹاؤنز کے ملازمین کو تمام مراعات دی جا چکی ہیں، لیکن سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کے ساتھ جان بوجھ کر سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔احتجاجی رہنماؤں نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات سندھ اور دیگر متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا کہ ملازمین کے تمام جائز مسائل فوری حل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رہے گی اور اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو ملازمین کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

