نئی دہلی:
مرکزی حکومت کے ‘سینٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ’ کے تحت دارالحکومت نئی دہلی کے کرشی بھون (Krishi Bhawan) کمپلیکس میں واقع سو سال سے زائد پرانی ‘قدیمی مسجد’ کو ہٹانے یا منہدم کرنے کی تجویز پر جماعت اسلامی ہند نے گہرے رنج و تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جماعت نے اس اقدام کو مذہبی آزادی، رواداری اور تاریخی ورثے کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے رہنماؤں (بشمول نائب صدر ملک معتصم خان) نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے اقلیتوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ یہ حساس معاملہ اس وقت معزز دہلی ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے حکومت کو کوئی بھی ایسا ناقابلِ واپسی (Irreversible) قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو قانونی عمل اور عدلیہ کے وقار کے خلاف ہو۔
اس سے قبل مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپنی اسٹیٹس رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر راجندر پرساد روڈ پر واقع یہ مسجد سرکاری زمین پر قائم ہے اور سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے ماسٹر پلان کے تحت اسے ہٹانا ناگزیر ہے، کیونکہ سرکاری احاطے میں اس نوعیت کے مذہبی ڈھانچے سیکولر کردار کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
واضح رہے کہ یہ تاریخی مسجد دہلی وقف بورڈ کے تحت 1970 سے باقاعدہ نوٹیفائیڈ ہے۔ مسجد کے تحفظ کے لیے دائر کی گئی درخواست پر اب دہلی ہائی کورٹ میں اگلی سماعت 23 نومبر کو مقرر کی گئی ہے، جہاں اس اہم معاملے پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

