نیویارک :امریکی وسط مدتی انتخابات میں اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کی ممکنہ کامیابی اور کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کے خدشات کے باعث کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں کمی ریکارڈ دیکھنے کو ملی ہے۔
ایشیائی مارکیٹ میں بدھ کے روز بٹ کوائن کی قیمت 1.6 فیصد تک گر کر 76 ہزار 600 امریکی ڈالر کے قریب آ گئی، جبکہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے باؤلنگ اور حفاظتی خدشات کے باعث اس کی قیمت میں پہلے ہی چھ فیصد تک کمی دیکھی گئی تھی۔
امریکی اخبار ’بلومبرگ‘ کے مطابق، مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے آئندہ کنٹرول کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو انڈسٹری کو تشویش ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا کنٹرول قائم ہونے کی صورت میں کرپٹو انڈسٹری کی حمایت میں تیار کیے جانے والے قوانین کا پروسیس رک سکتا ہے اور ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق کمپنیوں کی سخت قانونی و انتظامی جانچ پڑتال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بی ٹی سی مارکیٹس کی تجزیہ کار ریشل لوکاس کے مطابق مارکیٹ کی صورت حال محتاط ہے تاہم یہ مکمل مایوسی کا اشارہ نہیں ہے، اور آپشنز مارکیٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار انتخابی اتار چڑھاؤ کو عارضی سمجھ کر اپنی پوزیشنز کا تحفظ کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹ میں کلیریٹی ایکٹ کے پہلے ہی رک جانے کے باعث کمیٹیوں کے کنٹرول میں تبدیلی کا مطلب قانون کی فوری بحالی کے بجائے ازسرِ نو مذاکرات ہوں گے، جس کا مارکیٹ پہلے ہی اندازہ لگا چکی تھی۔
کرپٹو مارکیٹ کو امریکی انتخابات کے علاوہ اندرونی و تزویراتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے بائننس میں ہونے والی 6.3 ارب ڈالر کی بڑی ہیکنگ کے بعد امریکی اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز سے ایک ارب ڈالر سے زائد کا سرمایہ باہر نکل چکا ہے۔
امریکی سیاسی تناظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فیملی کے کرپٹو منصوبوں سے مالی مفادات بھی رواں سال ایک اہم انتخابی موضوع رہے ہیں، جس نے انڈسٹری سے متعلق قانون سازی کو متاثر کیا۔

