واشنگٹن ڈی سی :صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت (اپروول ریٹنگ) کی شرح اس انتخاب میں ریکارڈ شدہ کم ترین سطح کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس میں 2020 کا انتخاب بھی شامل ہے جب وہ جو بائیڈن سے ہار گئے تھے۔
ووٹر پول میں شامل افراد میں سے مجموعی طور پر 38 فیصد نے کہا کہ وہ صدر کے طور پر ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح 2018 میں، جو بطور صدر ان کا پہلا وسط مدتی انتخاب تھا، 44 فیصد اور 2020 میں 47 فیصد تھی۔
اس کے مقابلے میں جو بائیڈن کی مجموعی اپروول ریٹنگ 2022 کے وسط مدتی انتخابات میں 43 فیصد اور 2024 میں 42 فیصد تھی، جب ٹرمپ دوسری مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔
امریکہ میں بی بی سی کے نشریاتی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق ٹرمپ کی اپروول ریٹنگ 2006 میں جارج ڈبلیو بش کی مقبولیت سے بھی کم ہے، جب ان کی جماعت کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھو بیٹھی تھی۔
سروے میں مزید اعداد و شمار شامل کیے جا رہے ہیں، اس لیے رات گزرنے کے ساتھ یہ اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں۔

