لندن:برطانیہ کے شہری اور مہم جو کارل بشبی مسلسل اٹھائیس سال تک پیدل زمین کا چکر لگانے والا بالآخر اپنے گھر واپس پہنچ گیا۔ جہاں ان کا وہ خاندان منتظر تھا جس کے ساتھ وہ اپنی زندگی کے کئی اہم لمحات نہ گزار سکے۔
وہ اپنے بیٹے ایڈم کو اٹھ سال کی عمر میں چھوڑ کر گئے تھے اور جب واپس لوٹے تو ان کا بیٹا خود 12 سال کی ایک بیٹی کا باپ بن چکا تھا، جسے اس کے دادا نے صرف ویڈیو کالز کے ذریعے دیکھا تھا۔
اس طرح 30 ممالک پر پھیلا ہوا سفر مکمل ہوا، لیکن واپسی کی اس ملاقات کے ساتھ ایک جوان ہوچکے بیٹے اور اس پوتی سے سالوں کی جدائی کا احساس بھی جڑا تھا جسے دادا نے ابھی تک گلے نہیں لگایا تھا۔
یہ داستان نومبر سنہ 1998ء میں شروع ہوئی تھی جب بشبی نے چلی کے انتہائی جنوبی حصے سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، اس وقت ان کے پاس تقریباً 500 برطانوی پاؤنڈز اور ان کا سامان تھا جسے وہ اپنے پیچھے گھسیٹ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کی والدہ کے گھر تک کا راستہ 12 سال لے گا، لیکن سرحدوں، ویزوں کی پیچیدگیوں، فنڈز کی کمی اور پھر کرونا وبا نے اس جدائی کو طویل کر دیا۔ جب وہ 57 سال کے ہوئے تو ان کی اس مہم جوئی میں ان کی آدھی عمر صرف ہو چکی تھی، جبکہ واپسی نے فاصلہ ختم کرنے سے کہیں بڑھ کر ایک نیا مفہوم اختیار کر لیا تھا۔
تقریباً 75 ملین قدم چلنے کے بعد بشبی راستے کے اختتام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ان کے سامنے اس پوتی کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ یہ بچی انہیں سکرین پر دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی ہے۔
پیدل زمین کا چکر لگانے کا سفر،28 سال بعد برطانوی مہم جو کی گھرواپسی،

