صوابی (حق نواز خان)
تحصیل ٹوپی کے ہونہار طالب علم زوہیب احمد نے نیشنل محسنِ انسانیت کوئز کمپیٹیشن میں پورے پاکستان کے تقریباً 22 ہزار طلباء کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کرکے اپنے والدین، تعلیمی اداروں اور اہلِ ٹوپی کا نام روشن کردیا ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ اس قومی سطح کے کوئز مقابلے میں ملک بھر کے مدارس، اسکولوں اور کالجوں کے تقریباً 22 ہزار طلباء نے حصہ لیا، جبکہ مقابلے کے لیے پاکستان بھر میں 11 امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے۔
اس شاندار کامیابی کے حوالے سے زوہیب احمد نے اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم تحصیل ٹوپی اور جماعت اسلامی مردان ڈویژن کے کارکن احمد شاہ ابدالی کے ہمراہ تحصیل ٹوپی پریس کلب کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اس مقابلے کی تیاری کے لیے مسلسل 45 دن محنت کی، جبکہ برینک کالج نے انہیں تیاری کے دوران بھرپور رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے پشاور سینٹر میں امتحان دیا اور پورے پاکستان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔
زوہیب احمد نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے اس طرح کے علمی و تربیتی مقابلوں کا انعقاد ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے، کیونکہ موجودہ دور کی مصروفیات میں طلباء کو سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے اور اپنی علمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ایسے مواقع فراہم کرنا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اپنی اس کامیابی کو برینک کالج، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول ٹوپی، اپنے اساتذہ، والدین اور پوری ٹوپی کی عوام کے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی میں اساتذہ کی رہنمائی اور والدین کی دعاؤں کا اہم کردار ہے۔
اس موقع پر احمد شاہ ابدالی نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کی 1947ء سے آج تک یہ مسلسل کوشش اور روایت رہی ہے کہ طلباء کو محض نصابی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی علمی، فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی نکھارا جائے۔ اسی مقصد کے تحت کوئز مقابلوں، تقریری مقابلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، تاکہ طلباء کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، خود اعتمادی میں اضافے اور مثبت تعلیمی و فکری تربیت کے مواقع میسر آسکیں۔
موجودہ دور میں سیرتِ طیبہ ﷺ سے آگاہی اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مختلف فکری و نظریاتی فتنوں نے بالخصوص نوجوان نسل کو متاثر کیا ہے، جبکہ بہت سے نوجوان محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات، کردار اور انسانیت کے لیے آپ ﷺ کی عظیم خدمات سے پوری طرح واقف نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو سیرتِ نبوی ﷺ سے روشناس کرایا جائے اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔


