لاہور:فاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے ملکی سیاسی و انتظامی نظام اور پنجاب حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں کرپشن کی اب فائلیں نہیں بلکہ الماریاں بھر چکی ہوں گی۔
صحافی نعیم اشرف بٹ سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل قیصر احمد شیخ نے نظام سے متعلق جو باتیں کی تھیں، وہ سو فیصد حقیقت اور سچ پر مبنی ہیں، اگرچہ میرے پاس براہِ راست کوئی دستاویزی شواہد موجود نہیں ہیں، تاہم میں روزانہ پنجاب میں کرپشن کی لاتعداد کہانیاں سنتا ہوں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرپشن کے معاملات کس حد تک بڑھ چکے ہیں۔
صوبائی بجٹ کی تقسیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اعتراض کیا کہ پنجاب کا سارا بجٹ سمیٹ کر صرف لاہور لایا جاتا ہے، پھر حکمرانوں کی صوابدید ہوتی ہے کہ وہ اسے کیسے بانٹیں، جس حلقے یا ضلع سے حکومت کے اپنے لوگ جیتے ہیں، وہاں ترقیاتی فنڈز کے انبار لگا دیئے جاتے ہیں، اس کے برعکس جن اضلاع میں ان کے نمائندے نہیں جیتے، وہ پورے کے پورا ضلع بنیادی سہولیات اور ترقی سے محروم رکھا جاتا ہے۔نئے صوبوں کے قیام پر تبصرہ کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا کوئی چاہے گا کہ وہ اتنے بڑے محل سے نکل کر دس مرلے کے چھوٹے سے گھر میں آ جائے؟ اقتدار کے مزے لینے والے کبھی بھی انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کی تقسیم کے حق میں نہیں ہوں گے، ملکی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شاہانہ اخراجات اور سرکاری جہازوں کے استعمال پر نظرِ ثانی کرنی چاہیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی جہازوں کا ذاتی استعمال ہرگز نہیں ہونا چاہیے، اگر سرکاری دوروں کے لیے جہاز استعمال کیا بھی جائے تو دورے کے اختتام پر عوام اور اداروں کو بتانا چاہیے کہ اس دورے سے قومی خزانے کو کیا فائدہ پہنچا اور کیا حاصل ہوا، موجودہ سسٹم میں جان بوجھ کر اسپیڈ بریکر بنائے گئے ہیں، کچھ عناصر کسی اور کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، متعلقہ اداروں کو ایسے عناصر کی فی الفور نشاندہی کر کے سخت کارروائی کرنی چاہیے، وزراء کے ہاتھ پاؤں باندھ کر یہ توقع رکھنا کہ وہ دوڑ لگائے اور بہترین نتائج دیں، سراسر ناانصافی ہے، اصل حل یہ ہے کہ وزراء کو بااختیار بنایا جائے اور پھر ان سے کارکردگی کی بازپرس کی جائے۔
سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی تعریف کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے کہا کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، تب سے میں نے پرویز الہٰی کو پنجاب کا سب سے بہترین وزیراعلیٰ پایا، چوہدری پرویز الہٰی نے بغیر کسی سیاسی تعصب اور تفریق کے پورے پنجاب کا انفراسٹرکچر بہتر کیا اور سب کے کام کیے، چوہدری پرویز الہٰی کی رہائی اور ان کے قانونی معاملات میں مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا انتہائی کلیدی اور بڑا کردار رہا۔
"پنجاب میں کرپشن کی فائلیں نہیں الماریاں بھر گئیں!”: چوہدری سالک کا اپنی ہی اتحادی حکومت پر خودکش حملہ؛ مریم نواز کی کارکردگی پرسوالات!

