دوحا:تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے قطری ثالثوں کے ساتھ ہونے والے سفارتی مذاکرات کا نیا دور مکمل ہونے کے بعد ایرانی مذاکرات کار دوحہ سے روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ فریقین کو تجاویز پر مبنی ایک نیا تزویراتی مسودہ ٌپیش کردیا گیا ہے جس کی روشنی میں آئندہ دنوں میں ایک اور ملاقات متوقع ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے واضح کیا کہ ایرانی وفد کی اتوار کو دوحہ سے روانگی مذاکرات میں کسی تعطل یا مشکلات کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے۔
رپوٹ کے مطابق، نئے مسودے کے مندرجات پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ دوحہ مذاکرات کی بنیاد ستمبر میں ایران کی جانب سے پیش کیا گیا سات نکاتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کرنا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ تہران اب اس منصوبے کو تیزی سے نافذ کرنے کی تجویز دے رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق نائب ایرانی وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک تہران کے پیغامات پہنچانے کے لیے دوحہ میں قیام کیا تھا۔
اسماعیل بقائی نے تہران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات بالکل صاف، معقول اور منطقی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا اپنا بحری محاصرہ ختم نہیں کرتا اور ایران کے قانونی مطالبات و ضروریات کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک نہ تو کسی حتمی معاہدے کا آغاز ہو سکتا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا یا محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
امن کی آخری دستک، اعصاب شکن مذاکرات کے بعد واشنگٹن اورتہران کو قطری ثالثوں نے نیا تزویراتی مسودہ پیش کردیا

