تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب میں جرائم اور کرپشن کے خاتمے کا عزم رکھنے والی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پولیس کی کارکردگی جانچنے کے لیے روایتی اجلاسوں، بریفنگز اور ویڈیو لنکس سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق صوبے میں پولیس کمانڈ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک سخت احتسابی نظام متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت وزیراعلیٰ خود مختلف ڈویژنز میں جا کر متعلقہ ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران (ڈی پی اوز) کی کارکردگی کا براہِ راست جائزہ لے سکتی ہیں۔ مجوزہ حکمت عملی کا بنیادی مقصد جرائم کی صورت حال، عوامی شکایات، پولیس کے طرزِ عمل اور کرپشن جیسے اہم معاملات پر محض وضاحتیں طلب کرنے کے بجائے ٹھوس انتظامی فیصلے کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے پولیس افسران کو واضح پیغام دینے کی تیاری ہے کہ کارکردگی کا تعین صرف سرکاری اعداد و شمار یا کاغذی رپورٹس سے نہیں بلکہ زمینی حقائق اور عوام کو فراہم کیے جانے والے انصاف سے ہوگا۔
پنجاب پولیس کے افسران کے لیے آنے والے دن غیر معمولی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔ اب تک ناقص کارکردگی کی صورت میں تبادلوں کو عموماً بڑا انتظامی اقدام سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم مجوزہ احتسابی نظام کے تحت معاملہ محض عہدوں کی تبدیلی تک محدود رہنے کے بجائے محکمانہ کارروائیوں تک بھی جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جرائم پر قابو پانے میں ناکامی کے ٹھوس شواہد سامنے آنے پر متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس انٹیلی جنس کے کردار کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی کارکردگی، طرزِ عمل اور عوامی شکایات کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے ہفتہ وار رپورٹس وزیراعلیٰ کو پیش کرنے کا طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس نظام کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ رپورٹس کس حد تک غیر جانب دار، مستند اور زمینی حقائق کی عکاس ہوتی ہیں۔ پولیس کی کارکردگی جانچنے کے لیے صرف درج شدہ مقدمات کی تعداد کو پیمانہ بنانا کافی نہیں ہوگا۔ سنگین جرائم کی تفتیش، اشتہاری ملزمان کی گرفتاری، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام، شہریوں کی شکایات کا ازالہ، مقدمات کے اندراج میں شفافیت اور پولیس اہلکاروں کے احتساب کو بھی بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔ اسی طرح مختلف اضلاع کے جغرافیائی حالات، آبادی، جرائم کی نوعیت اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہوگا تاکہ محنتی افسران کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور ناقص کارکردگی دکھانے والوں کو تحفظ بھی نہ مل سکے۔ باخبر ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن میں آئندہ ہفتے کے دوران کوئی اہم پیش رفت متوقع ہے، جسے پنجاب پولیس کے لیے ایک واضح انتظامی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے ذریعے پولیس افسران کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ اب روایتی اندازِ حکمرانی اور محض کاغذی کارکردگی کے بجائے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق عملی نتائج دینا ہوں گے۔ دوسری جانب آئی جی پنجاب عبدالکریم کی سطح پر بھی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بہتر شہرت کے حامل افسران کی نشاندہی کا عمل جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے 4 آر پی اوز اور 8 ڈی پی اوز کو ایک ماہ کی وارننگ کے بعد ینگامی طور پر دو ڈی پی اوز بھکر اور چکوال کو تبدیل کر دیا گیا ہے تاہم ڈی پی اوز کی ممکنہ تبدیلیوں کے پیش نظر نئے افسران کی تعیناتی سے قبل ان کی کارکردگی، پیشہ ورانہ ساکھ اور سابقہ ریکارڈ سے متعلق رپورٹس حاصل کرنے کی اہمیت بڑھ گئی ہے، تاکہ تعیناتیوں کے فیصلے محض انتظامی ضرورت کے بجائے میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کیے جا سکیں۔
’’ویڈیو لنک اجلاسوں سے فیلڈ میں فیصلوں تک، مریم نواز کا پولیس افسران کے احتساب کا نیا پلان’’


