لاہور: پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار معمر رانا کی 28 سالہ شادی شدہ زندگی کا ڈرامائی اور لرزہ خیز اختتام ہو گیا ہے۔ لاہور کی فیملی کورٹ نے اداکار کی اہلیہ مہناز کی جانب سے دائر خلع کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے خلع کی ڈگری جاری کر دی ہے۔
فیملی کورٹ کے جج زاہد بشیر نے مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کرتے ہوئے دونوں کے درمیان 28 سالہ رشتۂ ازدواج کو ختم کرنے کا حکم دیا۔
عدالت میں مہناز معمر رانا کی جانب سے نامور قانون دان خدیجہ صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے۔ درخواست گزار مہناز نے عدالت کے سامنے معمر رانا کے غیر اخلاقی اور جابرانہ رویے کی خوفناک تفصیلات بیان کیں۔ مہناز کے مطابق اداکار معمر رانا شدید شراب نوشی کے عادی ہیں اور اکثر نشے کی حالت میں ان پر بدترین جسمانی تشدد کرتے اور گالیاں دیتے تھے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ معمر رانا نے متعدد بار اپنی ہی بیٹیوں کے سامنے اہلیہ کو گالیاں دیں، جس کی وجہ سے ان کی بیٹیوں کو بھی شدید ذہنی اذیت اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔
مہناز نے عدالت کو بتایا کہ اداکار نے گھر کے بنیادی اخراجات اور نفقہ برداشت کرنے سے بھی مکمل طور پر انکار کر دیا تھا۔
اہلخانہ اور رشتہ داروں نے معمر رانا کے رویے میں بہتری لانے اور ان کی ایک بری عادت کا علاج کروانے کی متعدد بار کوششیں کیں، تاہم معمر رانا نے کسی بھی قسم کا علاج کروانے اور رویہ بدلنے سے صاف انکار کر دیا۔
مہناز کی وکیل خدیجہ صدیقی نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ان تمام تلخ حالات اور طویل عرصے پر محیط ذہنی و جسمانی تشدد کے بعد اب دونوں کے لیے ایک چھت تلے رہنا اور حدودِ الٰہی میں قائم رہنا ممکن نہیں رہا
فیملی کورٹ لاہور نے تمام دلائل اور شواہد کو مدِنظر رکھتے ہوئے مہناز کے حق میں خلع کا فیصلہ سنا دیا، جس کے بعد شوبز انڈسٹری اور معمر رانا کے مداحوں میں شدید حیرت اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔
28سالہ ازدواجی زندگی کا دردناک اختتام: اداکار معمر رانا کو بڑا صدمہ

