واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنے صدارتی دورِ اقتدار کو ذاتی اور خاندانی مالی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے شدید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے عہدے پر رہتے ہوئے اربوں ڈالر کمائے ہیں، جس کی جدید امریکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
🇺🇸Obama calls out Trump for using his time in office to cash in BILLIONS
"He has made billions of dollars while in office. Understand this has not been done in modern times and not a single Republican in Congress has done anything to hold him to account.”
At this point, nobody can keep count of whether Trump has cut more deals or dragged the U.S. into more conflicts.
Writer: Bri https://t.co/Wx5l2pVvdW
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) October 29, 2026
ایک عوامی جلسے اور انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے امریکی کانگریس میں موجود ریپبلکن اراکین کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا:”ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کے دوران اربوں ڈالر کمائے ہیں۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھیں کہ جدید امریکی تاریخ میں کسی بھی صدر نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن اس کے باوجود کانگریس کے ایک بھی ریپبلکن رکن نے ان سے جواب طلبی کرنے یا انہیں احتساب کے زمرے میں لانے کی ہمت نہیں کی۔”تجارت، مالیاتی تنازعات اور بین الاقوامی معاہدےباراک اوباما کی یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی اور امریکی ذرائع ابلاغ (بشمول نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور سی این این) میں ٹرمپ کے کاروباری اور معاشی فیصلوں سے متعلق متعدد تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کے دوران اور بعد ازاں بین الاقوامی کاروبار، لگژری رئیل اسٹیٹ ڈیلز اور کرپٹو کرنسی پراجیکٹس سے بھاری منافع کمایا، تو دوسری جانب ان کی خارجہ پالیسی کے تحت مشرقِ وسطیٰ اور تجارتی پابندیوں کے فیصلے مسلسل تنازعات کا شکار رہے۔
انہوں نے صدارتی عہدے کی آڑ میں غیر ملکی حکومتوں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاشی منصوبے اور رئیل اسٹیٹ معاہدے کئے۔ریپبلکنز پر الزام کہ انہوں نے آئینی احتساب اور ‘ایمولومنٹس کلاز’ (Emoluments Clause) کے نفاذ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔اوباما کے ان بیانات نے امریکی سیاست میں ایک بار پھر اخلاقیات اور صدارتی اختیارات کے غلط استعمال کی بحث چھیڑ دی ہے۔ نقادوں اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب یہ گننا بھی مشکل ہو چکا ہے کہ آیا ٹرمپ نے اپنے دور میں کاروباری ڈیلز زیادہ کیں یا امریکہ کو مزید عالمی تنازعات اور سفارتی الجھنوں میں دھکیلا۔اوباما نے امریکی عوام پر زور دیا کہ وہ آئین کی بالادستی، شفافیت اور جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے اپنے ووٹ کا صحیح اور سوچے سمجھے انداز میں استعمال کریں

