تل ابیب : اسرائیل میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد سنگین سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے طویل اقتدار کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، تاہم اس انتخابی عمل کے نتیجے میں حکومت سازی کے لیے کوئی بھی واضح فاتح سامنے نہیں آ سکا ہے۔
ابتدائی تخمینوں اور رپورٹس کے مطابق حالیہ انتخابات میں وزیراعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت ‘لیکوڈ’ کو 120 رکنی پارلیمان (کُنیسٹ) میں 26 نشستیں، جبکہ ان کے پورے انتخابی اتحاد کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، اپوزیشن کو کُل ملا کر 67 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دوسری جانب گادی آئزن کوٹ کے اتحادی بلاک کو 48 نشستیں ملنے کی توقع ہے، اور اگر وہ حکومت بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں عرب جماعتوں کی لازمی حمایت درکار ہوگی، جنہیں اس بار مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کا امکان ہے؛ تاہم اپوزیشن کے اندر خود عرب جماعتوں کے ساتھ باضابطہ اتحاد کرنے یا نہ کرنے پر شدید سیاسی اختلافات پائے جاتے ہیں۔
ادھر نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین کو شدید خدشہ لاحق ہے کہ وہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کا سہارا لینے یا ایران کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کا متنازعہ راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ انتخابی عمل مکمل ہونے اور حتمی نتائج کے اعلان کے بعد اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ حکومت سازی کے لیے کسی موزوں امیدوار کو نامزد کریں گے، جسے پارلیمان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے 28 دن کا وقت ملے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر 14 دن کی مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر گادی آئزن کوٹ یا اپوزیشن کا کوئی اور رہنما حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو نیتن یاہو عبوری وزیراعظم کے طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں، بصورت دیگر ملک میں ایک بار پھر نئے انتخابات کی نوبت آ سکتی ہے۔

