پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے چائلڈ پورنوگرافی میں مبینہ طور پر ملوث ایک ’بین الاقوامی نیٹ ورک‘ کو بے نقاب کرنے اور اس کے مبینہ گینگ لیڈر کو سکردو سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے سائبر پٹرولنگ یونٹس میڈیا پر سرگرم ہیں، جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
سائبر کرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے اسلام آباد شعیب خان#NCCIA #CyberCrime #Islamabad https://t.co/PtLZyhnzXP
— NCCIA (@NCCIAOFFICIAL) October 25, 2026
این سی سی آئی اے اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحقیقات کے دوران یہ سامنے آیا کہ ایک شخص اپنے کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے فروخت کرنے میں ملوث تھا۔
اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے چائلڈ پورنوگرافی میں مبینہ طور پر ملوث ایک ’بین الاقوامی نیٹ ورک‘ کو بے نقاب کرنے اور اس کے مبینہ گینگ لیڈر کو سکردو سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
این سی سی آئی اے اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحقیقات کے دوران یہ سامنے آیا کہ ایک شخص اپنے کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے فروخت کرنے میں ملوث تھا
انھوں نے کہا کہ سورس رپورٹ اور بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے یہ معلومات موصول ہوئی تھیں کہ ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز کرپٹو کرنسی کے ذریعے فروخت کی جا رہی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
شعیب خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ مبینہ طور پر ایک والد اپنے چار سے پانچ سال عمر کے بچوں کی نازیبا ویڈیوز خود بنا کر فروخت کر رہا تھا۔
ان کے بقول قابلِ اعتماد اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے سکردو سے تعلق رکھنے والے مبینہ گینگ لیڈر کو گرفتار کر لیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم کے قبضے سے حاصل کیے گئے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کی ابتدائی جانچ کے دوران بچوں کی نازیبا ویڈیوز، جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیوز اور کرپٹو کرنسی لین دین سے متعلق شواہد ملے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے بھی اہم روابط اور شواہد سامنے آئے ہیں۔
ادارے کے مطابق برآمد شدہ ڈیجیٹل آلات کو مزید فرانزک تجزیے کے لیے سیل کر دیا گیا ہے جبکہ نیٹ ورک سے مبینہ طور پر منسلک دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
13 سالہ لڑکی کو ہراساں کرکے بلیک میل ، خودکشی پر مجبور کرنیوالا ملزم گرفتار
اسی پریس کانفرنس میں این سی سی آئی اے نے کراچی کی ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کے مقدمے میں بھی کارروائی کی تفصیلات فراہم کیں۔
ادارے کے مطابق متاثرہ لڑکی ہراسانی سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کے بعد ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
شعیب خان نے کہا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم گذشتہ دو سے تین برس کے دوران متاثرہ لڑکی کو مسلسل ہراساں اور بلیک میل کرتا رہا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ این سی سی آئی اے نے واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد 13 گھنٹوں کے اندر مرکزی ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق دونوں مقدمات میں ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان کا کہنا تھا کہ ایسے جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے اور خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف "زیرو ٹالرنس” پالیسی کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
شعیب خان کے مطابق سوشل میڈیا پر نازیبا مواد اپ لوڈ کرنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی اور ایسے عناصر قانون سے نہیں بچ سکیں گے۔

