کابل / ارزگان:
افغانستان کے صوبہ ارزگان سے تعلق رکھنے والے محمد صادق کی کہانی ملک میں جاری شدید معاشی بحران، غربت اور بڑھتی ہوئی غذائی سنگینی کا ایک دردناک اور انوکھا منظر پیش کرتی ہے۔ محمد صادق کی چار بیویوں سے اب تک 58 بچے زندہ ہیں جبکہ مجموعی طور پر وہ 70 سے زائد بچوں کے والد بن چکے ہیں، جن میں ان کا سب سے چھوٹا بچہ بھی شامل ہے۔اتنے بڑے اور وسیع و عریض خاندان کی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا محمد صادق کے لیے ایک نہتے اور کٹھن امتحان سے کم نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق، وہ ایک کار ڈیلرشپ پر مزدوری کرتے ہیں جہاں انہیں ایک گاڑی فروخت ہونے پر بمشکل ایک ہزار افغانی کمیشن ملتا ہے۔ یہ انتہائی قلیل آمدنی اتنے بڑے خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی، بچوں کے کپڑوں اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔معاشی ماہرین اور فلاحی حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت کے اس دور میں محمد صادق جیسے خاندانوں کی حالت زار ملک کے سنگین ہوتے ہوئے غذائی اور انسانی بحران کی ایک واضع تصویر ہے، جو فوری توجہ اور امداد کی متقاضی ہے۔

