تہران / ماسکو (نیوز ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان متوقع اور ہولناک عسکری تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر روس نے ایران میں واقع اپنے حساس ترین منصوبے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ (Bushehr Nuclear Power Plant) سے روسی عملے اور ماہرین کا ہنگامی بنیادوں پر انخلا شروع کر دیا ہے۔
🚨🇷🇺🇮🇷 Russian military freighters land at strategic AFB in Iran
Flight tracking reveals several heavy cargo planes, including an Il-76TD from Novosibirsk, arrived at Bushehr AFB
The flights signal deepening defense & strategic ties between Russia & Iran https://t.co/0AMRPENz3f
— Sukhoi Su-57 "Felon"👑ZOV (@75Sukhoi) October 23, 2026
ایرانی ذرائع کے مطابق، روسی فضائیہ کے متعدد الیوژن ال-76 (Il-76) ملٹری کارگو طیارے بوشہر ایئر بیس پر لینڈ کر چکے ہیں تاکہ ایٹمی پلانٹ سے تمام روسی عملے کو بحفاظت نکال کر وطن واپس لایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ روسی فوجی طیارے نہ صرف عملے کے انکلاء کے لیے استعمال ہو رہے ہیں بلکہ ان کے ذریعے ایران کو پیشگی دفاعی اور عسکری سامان بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
روسی ایٹمی ادارے ’روز ایٹم‘ (Rosatom) نے اس سے قبل جنگ کے آغاز کے موقع پر 28 فروری کو ایک ہی دن میں 94 افراد کو نکالا تھا، جس کے بعد مارچ کے آخر میں 163 اور اپریل کے آغاز میں 198 افراد کو نکالا گیا۔ حالات معمول پر آنے کے بعد اگست میں عملہ واپس لوٹنا شروع ہوا تھا
روس کی جانب سے اچانک اور ہنگامی بنیادوں پر ملٹری طیارے بھیج کر اپنے عملے کو نکالنے کا اقدام واضح اشارہ دیتا ہے کہ ماسکو کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بوشہر ایٹمی پلانٹ براہِ راست جنگ اور حملوں کی زد میں آ سکتا ہے۔
روز ایٹم کے سی ای او نے حال ہی میں 8 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ہنگامی حالات میں عملے کو جلد نکالنے کے لیے لاجسٹکس کی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

