لاہور: لاہور کے علاقے مزنگ میں سکوٹی پر سفر کرنے والی لڑکی کے ساتھ سرِراہ غنڈہ گردی، بدترین تشدد اور ہراسانی کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ملزم نے نا صرف لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کا قیمتی سامان چھیننے کی بھی کوشش کی، واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
لاہور کے علاقہ مزنگ میں موٹرسائیکل سوار کا سکوٹی پر سوار لڑکی پر بہیمانہ تشدد ۔ تشدد کی سی سی ٹی وی منظر پر آگئی موٹرسائیکل سوار شہری نے "سکوٹی سوار" لڑکی کو اوور ٹیک کرکے روکا ۔۔ موٹر سائیکل سوار شہری اترا اور لڑکی کو دبوچ کر زمین پر پٹخ دیا
تشدد سے لڑکی کی ناک کی ہڈی اور چہرے پر زخم آئے ۔۔
ملزم فرار، لوگوں نے موٹرسائیکل تحویل میں لے کر پولیس کے حوالے کر دی، لڑکی کے باپ کی مدعیت میں ایف آئی آر درج— طارق ارشد (@tariq5045) October 23, 2026
تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ لاہور کے مصروف ترین علاقے مزنگ لنک روڈ پر پیش آیا جہاں متاثرہ لڑکی اپنی سکوٹی پر سوار ہو کر جا رہی تھی کہ ملزم غلام مصطفیٰ نے موٹر سائیکل پر تعاقب کرتے ہوئے اس کی سکوٹی کو جان بوجھ کر ٹکر ماری اور زبردستی اس کا راستہ روک لیا، سرِراہ ہونے والی اس غنڈہ گردی پر بس اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ملزم نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑکی کو موٹر سائیکل سے نیچے گرا دیا اور اس پر بہیمانہ تشدد کیا۔بتایا گیا ہے کہ ملزم نے لڑکی کو تھپڑ مارے، اس کے بال نوچے اور اسے جسمانی و ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا، اس وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں متاثرہ لڑکی کے چہرے اور ناک پر زخم آئے ہیں، اس دوران ملزم نے لڑکی کا لیپ ٹاپ اور بیگ بھی زمین پر پھینک کر نقصان پہنچایا اور مبینہ طور پر اس کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ زبردستی چھیننے کی بھی کوشش کی، دن دہاڑے پیش آنے والے اس واقعے نے راہگیروں اور شہریوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
معلوم ہوا ہے کہ واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم غلام مصطفیٰ کو گرفتار کرلیا، اس واقعے کا مقدمہ متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں متعلقہ تھانہ مزنگ میں درج کر لیا گیا ہے، گرفتار ملزم غلام مصطفیٰ کا تعلق ضلع چنیوٹ سے ہے، پولیس اس سے مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ اس سے پہلے بھی اس طرح کی حرکات میں ملوث رہا ہے یا نہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق ملزم غلام مصطفیٰ وکیل ہےے
واقعے پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کامران فیصل نے واضح کیا ہے کہ سرِراہ خواتین کا راستہ روکنا، انہیں ہراساں کرنا اور ان پر ہاتھ اٹھانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، خواتین کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتفریق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں ملوث عناصر سے قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

