سکھر (رپورٹ/عبد الرحمان راجپوت)
سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین نے گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں اور پنشنوں کی عدم ادائیگی اور جائز مطالبات منظور نہ ہونے کے خلاف مرحلہ وار احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا۔ ملازمین نے میئر سکھر اور میونسپل کمشنر کے دفاتر کے باہر شدید احتجاجی دھرنا دیا اور جم کر نعرے بازی کی۔ احتجاج کی قیادت محنت کش اسٹاف یونین سی بی اے سکھر میونسپل کارپوریشن کے جنرل سیکریٹری علی مردان شیخ، سینئر نائب صدر دانش قریشی، رابطہ سیکریٹری شاہد حسین جتوئی، حامد مغل، کاشف ملک، رمیش لعل اور دیگر یونین رہنماؤں نے کی۔احتجاجی مظاہرے کے دوران مظاہرین نے یونین کے جھنڈے اور مطالبات کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے یونین رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ سکھر میونسپل کارپوریشن کو او زیڈ ٹی (آکٹروئی و ضلعی ٹیکس) کی مد میں ملنے والی 22 کروڑ 90 لاکھ روپے کی رقم میں سے 9 کروڑ روپے سے زائد تنخواہوں اور 5 کروڑ روپے پنشنوں کی مد میں مختص کرنے کے باوجود 8 کروڑ 90 لاکھ روپے بچتے ہیں، جبکہ بلدیاتی ادارے کی ماہانہ آمدنی بھی ایک کروڑ روپے سے زائد ہے۔رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ 9 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد کی رقم دستیاب ہونے کے باوجود ملازمین کو تنخواہوں اور پنشنوں سے محروم رکھنا اور ترقیاتی فنڈز ہوتے ہوئے بنیادی حقوق نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کارپوریشن کے تینوں ٹاؤنز کے ملازمین کو تمام مراعات مل چکی ہیں جبکہ سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ملازمین کا کہنا ہے کہ میونسپل کمشنر خالد جتوئی اور میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود مسائل حل نہیں کیے گئے۔ یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر تنخواہوں اور پنشنوں کی ادائیگی یقینی نہ بنائی گئی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔یونین رہنماؤں نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزراء سے فوری نوٹس لینے اور ملازمین کے بقایاجات جلد از جلد ادا کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

