واشنگٹن (ویب ڈیسک): ایران کے ساتھ جاری شدید اور خطرناک کشیدگی کے پیشِ نظر امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک اور ایئر کرافٹ کیریئر (جنگی طیارہ بردار بحری جہاز) روانہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کا عظیم الشان جنگی جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ (USS Theodore Roosevelt) جاپان میں اپنے قیام کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی حدود میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ خطے میں پہلے ہی کیریئر اسٹرائیک گروپس کے ذریعے ایران کی بحری ناScript یا ناکہ بندی (Naval Blockade) کو نافذ کیے ہوئے ہے۔
یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کے ساتھ اس کا مکمل ‘اسٹرائیک گروپ’، جدید ترین ففتھ جنریشن جنگی طیارے اور تباہ کن سیکیورٹی کور شامل ہے۔
بلا پائلٹ جنگی جہاز ‘سی ہاک’:
اس اسٹرائیک گروپ کی سب سے اہم خصوصیت اس کے ساتھ موجود غیر نامزد یا بے پائلٹ (Unmanned) جنگی بحری جہاز ‘سی ہاک’ (Seahawk) کی شمولیت ہے، جو جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈرون صلاحیتوں سے لیس ہے۔
تیسرا ایئر کرافٹ کیریئر: اس نئے جہاز کی آمد کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور اس سے ملحقہ سمندری حدود میں بیک وقت تین امریکی ایئر کرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپس تعینات ہو جائیں گے، جو کہ حالیہ تاریخ میں امریکی بحریہ کی سب سے بڑی فوجی موجودگی ہے۔
تجزئیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے اس انتہائی دھماکہ خیز اور حساس صورتحال میں مزید بحری فائر پاور لانے کا مقصد خطے میں اپنی دفاعی و ہجومانہ صلاحیتوں کو بڑھانا ہے، جس سے ایران کے ساتھ کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ جنگ کچھ ہی گھنٹوں کی دوری پر: ایک اور امریکی ایئر کرافٹ کیریئر یوایس ایس تھیوڈور روزویلٹ پہنچ گیا

