قاہرہ :مصری پارلیمنٹ میں صدر کو سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کا اختیار دینے سے متعلق ووٹنگ کو مزید ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے، اور اب یہ 26 اکتوبر کو ہوگی۔
اس ووٹنگ کو کل اس لیے ملتوی کیا گیا تھا تاکہ تمام نمائندوں کو اپنی رائے دینے اور اپنے خیالات کے اظہار کا موقع مل سکے۔
صدر عبدالفتاح السیسی نے سنیچر کے روز مصری اراکینِ پارلیمنٹ سے کہا کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو اسے حوثی حملوں کے خلاف مدد فراہم کرنے کی منظوری دی جائے۔
اُنھوں نے کہا تھا: ’میں جانتا ہوں کہ اس اقدام کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہے، اس لیے میں نے ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے تاکہ ہمیں یہ اختیار مل سکے کہ اگر سعودی عرب درخواست کرے تو ہم کارروائی کر سکیں۔‘
مصر 2015 میں یمن میں سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کا حصہ بنا تھا، اگرچہ اس کا کردار بنیادی طور پر جنگی محاذ پر فوجی کارروائیاں کرنے کے بجائے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنانے تک محدود رہا ہے۔
حوثی رہنماؤں نے مصر کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ان کی جنگ میں مداخلت نہ کرے، کیونکہ ایسی مداخلت بالآخر اسرائیلی مفادات کی تکمیل کا باعث بنے گی۔
حوثیوں نے براہ راست دھمکیاں دینے سے تو گریز کیا، لیکن 1960 کی دہائی میں مصر کی جانب سے کی گئی فوجی مداخلت کا حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں مصر کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا

